عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم کو حکومت نے چیلنج کردیا

عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر پاکستانی حکومت کا سپریم کورٹ سے رجوع
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم کو حکومت نے چیلنج کردیا

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسلام آباد کے نجی اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کردی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے بدھ کو سپریم کورٹ کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم موجودہ قانونی نظام اور قیدیوں سے متعلق مروجہ طریقہ کار پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے ایک روز قبل حکومت کو ہدایت کی تھی کہ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کو دو روز کے اندر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔ عدالت نے ان کے طبی معائنے اور علاج کے لیے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل پینل کی تشکیل کی بھی ہدایت کی تھی، جس میں ماہر امراض قلب، آنکھوں کے ڈاکٹر اور عمران خان کے ذاتی معالج کو شامل کرنے کا کہا گیا۔

SCO اجلاس 2027 کی تیاریوں کا جائزہ لیتے اسحاق ڈار
اسحاق ڈار کی زیر صدارت SCO اجلاس 2027 کی تیاریوں سے متعلق اجلاس

حکومت نے عدالتی حکم پر کیا مؤقف اختیار کیا؟

حکومت کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ کسی قیدی کو ایسی طبی رپورٹ کی بنیاد پر نجی اسپتال منتقل کرنا، جس میں فوری طبی علاج کی ضرورت واضح نہ ہو، پورے فوجداری نظام پر اثر ڈال سکتا ہے۔

حکومت نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ عبوری حکم واپس لیا جائے، کیونکہ اگر ایک قیدی کو موجودہ قانون کے دائرے سے ہٹ کر نجی اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دی گئی تو مستقبل میں دیگر قیدی بھی اسی نوعیت کی سہولت حاصل کرنے کے لیے عدالتوں سے رجوع کرسکتے ہیں۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی عدالتی حکم پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حکم قانون کے دائرے کے مطابق نہیں ہے۔

عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش

73 سالہ عمران خان اگست 2023 سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان کے اہلخانہ اور پارٹی رہنما گزشتہ عرصے کے دوران ان کی صحت اور طبی سہولیات کے حوالے سے متعدد مرتبہ تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

عمران خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ جیل میں رہنے کے دوران ان کی دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی ہے جبکہ ان کے بیٹوں کی جانب سے بھی والد کی صحت کے بارے میں تشویش ظاہر کی جاتی رہی ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم میں عمران خان کو ان کے ذاتی معالج تک رسائی دینے کی ہدایت بھی شامل ہے تاکہ ان کی صحت کا تفصیلی جائزہ لیا جاسکے۔

سعودی سفیر نواف المالکی کی نواز شریف اور مریم نواز سے ملاقات
نواز شریف اور مریم نواز سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی الوداعی ملاقات

بیٹوں سے ہفتے میں دو مرتبہ فون پر بات کی اجازت

عدالت کے حکم میں عمران خان کے اہلخانہ سے رابطے کے معاملے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ حکم کے مطابق عمران خان کو اپنے دونوں بیٹوں سے ہفتے میں دو مرتبہ ٹیلی فون پر بات کرنے کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عمران خان کے دونوں بیٹے، سلیمان اور قاسم، لندن میں مقیم ہیں۔ قاسم خان نے اپنے والد کی صحت کو سب سے اہم قرار دیتے ہوئے حکومت سے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کی امید ظاہر کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت عدالتی حکم پر عمل کرے، فون کالز کی اجازت دے اور انہیں پاکستان آنے کے لیے ویزے جاری کیے جائیں تاکہ وہ اپنے والد سے ملاقات کرسکیں۔

دونوں بیٹوں کے مطابق وہ 2022 کے بعد سے عمران خان سے ملاقات نہیں کرسکے۔

پی ٹی آئی کا عدالتی حکم پر فوری عمل کا مطالبہ

پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کے حکم کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عدالتی فیصلے پر فوری اور مکمل عمل درآمد کیا جائے۔

پارٹی کا مؤقف ہے کہ عمران خان کو مناسب طبی سہولیات، اپنے ذاتی معالج تک رسائی اور اہلخانہ سے رابطے کی اجازت ملنی چاہیے۔

دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے جیل قوانین اور موجودہ قانونی طریقہ کار موجود ہے اور کسی ایک قیدی کے لیے الگ معیار مقرر کرنے سے مستقبل میں پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم، سپریم کورٹ کی سماعت
سپریم کورٹ نے عمران خان کو اگلی سماعت تک شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔

عمران خان کو کن مقدمات کا سامنا ہے؟

عمران خان کو حکومت سے ہٹائے جانے کے بعد مختلف مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں توشہ خانہ، 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات اور عدت میں نکاح کیس سمیت دیگر مقدمات شامل ہیں۔

عمران خان اور ان کی جماعت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خلاف مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں اور انہیں سیاسی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب حکومت اور ریاستی ادارے ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق عمران خان کے خلاف متعدد مقدمات میں سزائیں معطل یا ختم ہوچکی ہیں جبکہ بعض معاملات میں اپیلیں اب بھی زیر سماعت ہیں۔

معاملہ سیاسی کشیدگی میں مزید اہم ہوگیا

عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کی جماعت اور حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ عدالت کی جانب سے طبی سہولیات اور اہلخانہ سے رابطے کے حوالے سے احکامات کے بعد اب حکومت کی جانب سے انہیں چیلنج کیے جانے سے معاملہ دوبارہ سپریم کورٹ کے سامنے آگیا ہے۔

اب عدالت حکومت کی درخواست پر کیا فیصلہ کرتی ہے اور عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی سے متعلق سابقہ حکم برقرار رہتا ہے یا اس میں تبدیلی آتی ہے، یہ آئندہ عدالتی کارروائی میں واضح ہوگا۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: حکومت نے عمران خان کی اسپتال منتقلی کا حکم کیوں چیلنج کیا؟
حکومت کا مؤقف ہے کہ نجی اسپتال منتقلی کے لیے فوری طبی ضرورت واضح نہیں کی گئی اور اس فیصلے کے فوجداری نظام پر وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

سوال 2: سپریم کورٹ نے عمران خان کے بارے میں کیا حکم دیا تھا؟
سپریم کورٹ نے عمران خان کو دو دن کے اندر اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

سوال 3: کیا عمران خان کو اپنے ذاتی ڈاکٹر سے علاج کی اجازت دی گئی ہے؟
عدالت کے حکم میں عمران خان کے ذاتی معالج تک رسائی کے ساتھ ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل پینل کی ہدایت بھی شامل تھی۔

سوال 4: عمران خان کے بیٹوں نے کیا مطالبہ کیا؟
عمران خان کے بیٹوں نے ان کی صحت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے والد سے فون پر بات چیت اور پاکستان آ کر ان سے ملاقات کے لیے ویزے جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔