ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026 میں ترمیم، کابینہ کی منظوری
ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026 میں ترمیم کے مسودے کی وفاقی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دفاعی امور سے متعلق اہم قانون سازی کے مسودوں پر غور کیا گیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق کابینہ نے Defence Forces Act 2026 کے مسودے کی منظوری دی، جسے 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے کی جانے والی تبدیلیوں کے تسلسل میں تیار کیا گیا ہے۔ اس قانون سازی کا بنیادی مقصد چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے اور چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز سے متعلق انتظامی امور کو قانونی دائرہ کار میں واضح کرنا ہے۔
ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026 کا مسودہ پارلیمان میں پیش ہوگا
وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026 کا مسودہ پارلیمان کے جاری اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ پارلیمانی کارروائی کے دوران مسودے پر بحث اور قانونی مراحل مکمل کیے جائیں گے۔
حکومت کی جانب سے اس قانون سازی کو 27ویں آئینی ترمیم کے بعد پیدا ہونے والے متعلقہ انتظامی اور قانونی معاملات کو منظم کرنے کے عمل کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز سے متعلق امور
حکومتی بیان کے مطابق مجوزہ قانون میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے اور اس سے متعلق ہیڈ کوارٹرز کے انتظامی امور کا تعین کیا جائے گا۔ اس کا مقصد نئے انتظامی ڈھانچے سے متعلق قانونی معاملات کو واضح کرنا اور متعلقہ امور کے لیے باقاعدہ قانونی فریم ورک فراہم کرنا ہے۔
تاہم مسودے کی حتمی منظوری پارلیمان کے قانونی و آئینی مراحل مکمل ہونے کے بعد ہوگی۔ کابینہ کی منظوری کے بعد اب قانون سازی کا اگلا مرحلہ پارلیمان میں شروع ہوگا۔
نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں بھی ترمیم
وفاقی کابینہ نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترمیم کے مسودے کی بھی منظوری دے دی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اس ایکٹ میں ترامیم ضروری تھیں۔
ترمیم شدہ مسودہ بھی پارلیمان میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اس طرح دونوں قانونی مسودوں کو اب کابینہ کی سطح سے پارلیمانی مرحلے میں منتقل کردیا گیا ہے۔
وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس
یہ فیصلے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے۔ اجلاس میں ملکی معاملات کے علاوہ دفاعی اور انتظامی امور سے متعلق قانون سازی پر بھی غور کیا گیا۔
کابینہ کی جانب سے دونوں مسودوں کی منظوری کے بعد اب پارلیمان میں ان پر کارروائی ہوگی۔ قانون سازی کے مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ترامیم باقاعدہ قانونی شکل اختیار کریں گی۔
27ویں آئینی ترمیم کے بعد قانون سازی
حکومت کے مطابق ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026 کا مسودہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے کی گئی ترامیم کے تسلسل میں تیار کیا گیا ہے۔ اسی طرح نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں مجوزہ تبدیلیوں کو بھی آئینی ترمیم کے بعد ضروری قانونی عمل کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
اس قانون سازی کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ اس کے ذریعے چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے اور متعلقہ انتظامی ڈھانچے سے متعلق امور کو قانون کے تحت واضح کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اب دونوں مسودے پارلیمان کے سامنے پیش کیے جائیں گے، جہاں ان کی منظوری کے لیے آئینی اور قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ پارلیمانی منظوری کے بعد ہی ان ترامیم کو حتمی قانونی حیثیت حاصل ہوگی۔
READ MORE FAQS
ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026 کیا ہے؟
ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026 کا مجوزہ قانون چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے اور چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز سے متعلق انتظامی امور کا تعین کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026 کی منظوری کس نے دی؟
اس کے مسودے کی منظوری وفاقی کابینہ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں دی۔
کیا ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026 قانون بن چکا ہے؟
نہیں۔ کابینہ نے مسودے کی منظوری دی ہے، جبکہ اسے اب پارلیمان میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں کیوں ترمیم کی جارہی ہے؟
حکومتی بیان کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے بعد نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترمیم ضروری قانونی عمل کا حصہ ہے۔








