اسپین میں مہاجرین کے بحران نے سیاسی ہلچل مچا دی، سوشل میڈیا کے کردار پر بھی سوالات
میڈرڈ: اسپین کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا (Ceuta) میں ہزاروں افراد کی غیرقانونی داخلے کی کوشش نے نہ صرف ایک بڑے انسانی المیے کو جنم دیا بلکہ یورپ بھر میں سیاسی بحران بھی پیدا کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق مراکش سے سمندر کے راستے سیوٹا پہنچنے کی کوشش کرنے والے بیشتر مہاجرین واپس مراکش لوٹ گئے، تاہم اسپین میں مہاجرین کے اس افسوسناک واقعے میں کم از کم 72 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
رپورٹس کے مطابق متعدد اسپین میں مہاجرین ربڑ کے ٹیوبوں، فِنز اور تیراکی کے دیگر سامان کی مدد سے اسپین پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن بہت سے افراد سمندر میں ڈوب گئے، جن کی لاشیں بعد ازاں ساحل سے برآمد کی گئیں۔
سوشل میڈیا نے کیا کردار ادا کیا؟
اس واقعے کے بعد سب سے بڑا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ ہجوم سوشل میڈیا پر پھیلنے والی گمراہ کن معلومات کے باعث جمع ہوا یا اس کے پیچھے کوئی منظم منصوبہ بندی موجود تھی۔

متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایسی ویڈیوز اور پوسٹس وائرل ہوئیں جن میں نوجوانوں کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا کہ "اسپین کے دروازے کھل چکے ہیں” اور یورپ پہنچنا انتہائی آسان ہے۔ کئی افراد نے سمندر میں تیرتے ہوئے اپنی ویڈیوز بھی شیئر کیں، جس کے بعد ہزاروں نوجوان سیوٹا کی جانب روانہ ہوگئے۔
تاہم حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ اسپین پہنچنے والے افراد کو نہ رہائش ملی، نہ خوراک اور نہ ہی یورپ کے دیگر ممالک جانے کی اجازت، جس کے باعث زیادہ تر مہاجرین واپس مراکش چلے گئے۔
اسپین اور اٹلی میں سیاسی کشیدگی
اس بحران نے یورپی یونین کے اندر بھی اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے بعض یورپی رہنماؤں پر الزام عائد کیا کہ وہ بحران کے دوران تعاون کرنے کے بجائے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے سیوٹا میں مہاجرین کی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے اسپین کی امیگریشن پالیسی پر شدید تنقید کی اور سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اسپین کے ساتھ شینگن معاہدے کی معطلی کا اعلان کر دیا۔
اسپین نے اٹلی کے اس فیصلے پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سیوٹا شینگن زون کا حصہ نہیں، اس لیے وہاں آنے والے مہاجرین یورپ کے دیگر ممالک میں آزادانہ داخل نہیں ہو سکتے تھے۔
اسپین کی امیگریشن پالیسی تنقید کی زد میں
یورپ کے کئی ممالک کا خیال ہے کہ اسپین کی نسبتاً نرم امیگریشن پالیسی غیرقانونی ہجرت کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔
حال ہی میں اسپین نے لاکھوں غیرقانونی تارکین وطن کو قانونی رہائش اور ورک پرمٹ دینے کی پالیسی متعارف کرائی تھی، جس پر دائیں بازو کی جماعتوں نے شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔

تاہم وزیراعظم پیڈرو سانچیز کا کہنا ہے کہ حالیہ بحران کا اس پالیسی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ انسانی اسمگلروں اور سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی غلط معلومات نے لوگوں کو گمراہ کیا۔
اسپین میں مہاجرین پر مراکش کا مؤقف
مراکش نے اس واقعے کا ذمہ دار "مجرمانہ نیٹ ورکس” کو قرار دیا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ سرحدی فورسز کو ہزاروں افراد کے جمع ہونے کا پہلے ہی علم ہونا چاہیے تھا۔
یہ پہلا موقع نہیں جب اسپین اور مراکش کے درمیان سیوٹا کے معاملے پر کشیدگی پیدا ہوئی ہو۔ ماضی میں بھی مغربی صحارا کے تنازع کے دوران اسی نوعیت کی صورتحال سامنے آ چکی ہے۔
یورپی یونین میں نئی بحث
اس واقعے کے بعد یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں بیرونی سرحدوں کو مزید محفوظ بنانے اور غیرقانونی ہجرت روکنے کے لیے نئی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔
ادھر اسپین نے سیوٹا کی سرحد پر حفاظتی اقدامات مزید سخت کرتے ہوئے سمندر میں اضافی رکاوٹیں، تیرتے ہوئے بیریئرز اور بحری گشت بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق سیوٹا کا حالیہ بحران ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط معلومات نہ صرف سیاسی تنازعات کو ہوا دے سکتی ہیں بلکہ انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔
🇪🇸🇲🇦 In case you believed what the Spanish government said about the majority of illegal migrants being returned to Morocco, here's what Ceuta looked like overnight
This one's going to take a long time to sort out
Writer: Ianpic.twitter.com/sDt1GL3ZWR
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) August 2, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: اسپین میں مہاجرین کا بحران کہاں پیش آیا؟
جواب: یہ بحران اسپین کے شمالی افریقی خودمختار علاقے سیوٹا (Ceuta) میں پیش آیا، جہاں ہزاروں افراد مراکش سے سمندر کے راستے داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
سوال 2: اس واقعے میں کتنے افراد ہلاک ہوئے؟
جواب: ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس بحران میں کم از کم 72 افراد سمندر میں ڈوب کر جان کی بازی ہار گئے۔
سوال 3: سوشل میڈیا کا اس بحران میں کیا کردار تھا؟
جواب: متعدد سوشل میڈیا پوسٹس اور ویڈیوز میں یہ تاثر دیا گیا کہ اسپین میں داخل ہونا آسان ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں نوجوان سیوٹا پہنچنے کی کوشش کرنے لگے، تاہم یہ دعوے درست ثابت نہیں ہوئے۔
سوال 4: اس بحران پر یورپی ممالک کا ردعمل کیا رہا؟
جواب: اسپین اور اٹلی کے درمیان امیگریشن پالیسی پر اختلافات سامنے آئے، جبکہ یورپی یونین نے بیرونی سرحدوں کی سیکیورٹی اور غیر قانونی ہجرت روکنے کے لیے ہنگامی مشاورت شروع کر دی۔






