ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، امریکہ نے گزشتہ روز ایران پر شدید حملے کیے تھے اور آج بھی مزید کارروائی کا امکان، سخت بیان سامنے آ گیا
واشنگٹن (10 جون 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو امریکہ دوبارہ ایران پر شدید حملے کر سکتا ہے۔ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے گزشتہ روز ایران پر شدید حملے کیے تھے اور آج بھی مزید کارروائی کا امکان موجود ہے۔ ان کے مطابق پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے کے بارے میں بھی غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ ظاہر نہیں کیا گیا۔
اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے امریکی اثاثوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے، جس کے بعد جوابی کارروائی ناگزیر ہو گئی ہے۔
ایران سے سخت مطالبہ
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو فوری طور پر جوہری معاہدے پر دستخط کرنا ہوں گے کیونکہ اسے کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کے مطابق امریکہ ایک واضح اور مضبوط معاہدہ چاہتا ہے تاکہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکا جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت تقریباً مکمل ہو چکی ہے اور اب صرف معاہدے پر دستخط باقی ہیں، لیکن ایران اس عمل میں تاخیر کر رہا ہے

معاہدے کا مؤقف
امریکی صدر نے واضح کیا کہ امریکہ ایسا معاہدہ نہیں چاہتا جیسا سابق صدر باراک اوباما کے دور میں ہوا تھا۔ ان کے مطابق امریکہ ایک ایسا بامعنی معاہدہ چاہتا ہے جو اس کے مفاد میں بھی ہو۔
انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر معاہدے پر دستخط کرے ورنہ ایران پر شدید حملے ہو سکتے ہے۔
پاکستان کا ذکر اور سفارتی دعوے
امریکی صدر نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر ان کے قریبی دوست ہیں اور انہوں نے خطے میں جنگ بندی کے لیے کردار ادا کیا۔
ٹرمپ کے مطابق ماضی میں بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران جنگ بندی میں کردار ادا کیا گیا تھا، تاہم ان دعوؤں کی آزاد تصدیق موجود نہیں ہے۔
خطے کی صورتحال
امریکی صدر نے کہا کہ وہ مشرق وسطیٰ اور دنیا میں امن چاہتے ہیں، لیکن اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
امن یا کشیدگی؟
ٹرمپ کے مطابق امریکہ کا مقصد جنگ نہیں بلکہ امن ہے، تاہم ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دور رکھنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔
.@POTUS on Iran: "We hit them hard yesterday and we're going to hit them again hard today... And we'll see what happens with the deal. We were really close to a deal — but they keep tapping us along. They keep playing us for suckers because you know what? They dealt with some… pic.twitter.com/ScvGn14QFQ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) June 10, 2026
READ MORE FAQS”
ٹرمپ نے کیا دھمکی دی؟
انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران پر دوبارہ حملے کیے جائیں گے۔
ایران سے کیا مطالبہ کیا گیا؟
ایران سے جوہری معاہدے پر دستخط کرنے اور ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان کا ذکر کیوں کیا گیا؟
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے رہنما خطے میں جنگ بندی کی کوششوں میں شامل رہے۔
کیا ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے؟
ٹرمپ کے مطابق بات چیت مکمل ہو چکی ہے، صرف دستخط باقی ہیں۔
یہ بیان کہاں دیا گیا؟
یہ بیان واشنگٹن میں اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران دیا گیا۔






