یو اے ای کی اسرائیل پر شدید مذمت: مغربی کنارے میں مساجد جلانے پر نیتن یاہو حکومت ذمہ دار قرار
یو اے ای کی اسرائیل پر شدید مذمت اس وقت سامنے آئی جب مغربی کنارے میں مساجد جلانے اور فلسطینی شہریوں پر حملوں کے واقعات پر متحدہ عرب امارات نے سخت ردعمل دیا۔ اماراتی حکومت نے اپنے سرکاری بیان میں واضح کیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی آزادی بلکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
ابوظبی سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مغربی کنارے میں مساجد کو نقصان پہنچانے، مذہبی مقامات کی بے حرمتی کرنے اور فلسطینی آبادی کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ امارات نے ان واقعات کی مکمل ذمہ داری اسرائیلی حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حدود میں موجود تمام شہریوں اور مقدس مقامات کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
متحدہ عرب امارات نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذہبی مقامات پر حملے مسلمانوں کے جذبات کو شدید مجروح کرتے ہیں اور اس طرح کے اقدامات انتہاپسندی، نفرت اور کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ مقدس مقامات کا احترام بین الاقوامی قوانین اور عالمی اقدار کا بنیادی تقاضا ہے۔
اماراتی حکومت نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا کہ حملوں میں ملوث افراد کے خلاف شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر مجرموں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو یہ تاثر پیدا ہوگا کہ ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، جو مزید تشدد اور عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ فلسطینی علاقوں میں مذہبی مقامات کے تحفظ اور شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔ امارات کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی میں اضافہ کریں۔
بیان میں کہا گیا کہ مغربی کنارے میں حالیہ واقعات صرف فلسطینی عوام ہی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ مذہبی مقامات پر حملے بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کے اصولوں کے منافی ہیں، اس لیے عالمی سطح پر ان کی واضح مذمت ہونی چاہیے۔
امارات نے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کا واحد راستہ مذاکرات، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا احترام ہے۔ حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خطے میں امن، استحکام اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق متحدہ عرب امارات کا یہ سخت مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذہبی مقامات کے تحفظ اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے مسلم ممالک میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات عالمی سطح پر مسئلہ فلسطین پر نئی سفارتی بحث کو بھی تقویت دے سکتے ہیں۔
READ MORE FAQS
- یو اے ای نے اسرائیل کی مذمت کیوں کی؟
متحدہ عرب امارات نے مغربی کنارے میں مساجد جلانے اور فلسطینیوں پر حملوں کے واقعات پر اسرائیل کی شدید مذمت کی۔
- یو اے ای نے اسرائیلی حکومت سے کیا مطالبہ کیا؟
امارات نے مطالبہ کیا کہ حملوں میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور شفاف قانونی کارروائی کی جائے۔
- یو اے ای نے عالمی برادری سے کیا اپیل کی؟
امارات نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے فلسطینی شہریوں اور مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی اپیل کی۔
- بیان میں نیتن یاہو حکومت کے بارے میں کیا کہا گیا؟
امارات نے حالیہ واقعات کی ذمہ داری اسرائیلی حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ امن و امان اور مقدس مقامات کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔








