فیس بک پر UK TikTok اکاؤنٹس فروخت کے نام پر مبینہ فراڈ، شہریوں کو بڑے نقصان کا خدشہ
UK TikTok اکاؤنٹس فراڈ کے نام پر سوشل میڈیا صارفین کو نشانہ بنانے کا ایک نیا اور تشویشناک رجحان سامنے آیا ہے، جس میں فیس بک پر جعلی پیجز اور مشکوک پروفائلز کے ذریعے شہریوں سے رقم ہتھیانے کی شکایات بڑھ رہی ہیں۔ متاثرہ افراد کے مطابق یہ پیجز خود کو قابل اعتماد ظاہر کر کے “UK TikTok اکاؤنٹس” فروخت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن درحقیقت یہ ایک منظم آن لائن دھوکہ دہی کا حصہ ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب متعدد شہریوں نے شکایت کی کہ انہیں فیس بک پر ایسے اشتہارات دکھائے گئے جن میں کم قیمت پر مونیٹائزڈ یا زیادہ آمدن والے TikTok اکاؤنٹس فروخت کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔
کیسے ہوتا ہے مبینہ فراڈ؟
متاثرین کے مطابق اس فراڈ کا طریقہ کار کافی منظم اور منصوبہ بند ہوتا ہے:
- سب سے پہلے فیس بک پر جعلی پیجز یا اسپانسرڈ پوسٹس کے ذریعے رابطہ کیا جاتا ہے
- صارفین کو “UK TikTok اکاؤنٹس” کم قیمت میں دینے کا لالچ دیا جاتا ہے
- ابتدائی طور پر چند ہزار روپے وصول کیے جاتے ہیں
- بعد ازاں مختلف بہانوں سے مزید رقم طلب کی جاتی ہے
- اکاؤنٹ ویریفکیشن فیس
- سیکیورٹی چارجز
- ٹرانسفر فیس
- آخر میں یا تو اکاؤنٹ نہیں دیا جاتا یا رابطہ ختم کر دیا جاتا ہے
متعدد متاثرین کا کہنا ہے کہ یہ پیجز بظاہر پروفیشنل لگتے ہیں، مگر ان کی سرگرمیاں اور فالوورز اکثر جعلی ہوتے ہیں۔
متاثرہ شہریوں کی شکایات
شہریوں نے بتایا کہ انہوں نے آن لائن آمدن کے خواب میں ان پیجز پر اعتماد کیا، مگر بعد میں انہیں احساس ہوا کہ یہ ایک فراڈ ہے۔ کچھ افراد نے اپنی جمع پونجی بھی کھو دی۔
متاثرین کے مطابق:
- پیجز پر کوئی واضح شناخت یا حقیقی معلومات موجود نہیں ہوتیں
- رابطہ صرف واٹس ایپ یا میسنجر کے ذریعے کیا جاتا ہے
- رقم وصول ہونے کے بعد بہانے شروع ہو جاتے ہیں
- آخر میں خریدار کو بلاک کر دیا جاتا ہے
یہ صورتحال شہریوں کے لیے شدید مالی نقصان کا باعث بن رہی ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے اس بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق ایسے فراڈ اکثر اس وقت سامنے آتے ہیں جب لوگ آسان آمدن یا آن لائن بزنس کے لالچ میں بغیر تصدیق کے رقم منتقل کر دیتے ہیں۔
ماہرین نے واضح ہدایت دی ہے کہ:
- کسی بھی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی خریداری سے پہلے مکمل تحقیق کریں
- غیر مصدقہ پیجز کو ہرگز رقم نہ بھیجیں
- سرکاری یا تصدیق شدہ پلیٹ فارمز کے علاوہ کسی پر اعتماد نہ کریں
- “زیادہ آمدن” یا “فوری منافع” کے دعووں سے محتاط رہیں
ڈیجیٹل دور میں بڑھتے ہوئے اسکام
آج کے ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا فراڈ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ خاص طور پر:
- TikTok اکاؤنٹ مونیٹائزیشن
- انسٹاگرام فالورز سیل
- یوٹیوب چینل خرید و فروخت
- فری لانسنگ جعلی آفرز
یہ تمام طریقے عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
حکام سے کارروائی کا مطالبہ
متاثرہ شہریوں نے متعلقہ اداروں، خصوصاً سائبر کرائم ونگ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے جعلی پیجز کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ:
- ایسے اکاؤنٹس کو فوری بند کیا جائے
- فراڈ میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے
- عوامی آگاہی مہم چلائی جائے
تاکہ مزید شہری اس قسم کے مالی نقصان سے بچ سکیں۔
UK TikTok اکاؤنٹس فراڈ ایک سنگین آن لائن دھوکہ دہی کا معاملہ ہے جو سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو ظاہر کرتا ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ کسی بھی آن لائن پیشکش پر اندھا اعتماد نہ کریں اور ہر لین دین سے پہلے مکمل تصدیق ضرور کریں۔ احتیاط ہی اس جدید دور کے ڈیجیٹل فراڈ سے بچاؤ کا بہترین حل ہے۔
READ MORE FAQS
سوال 1: UK TikTok اکاؤنٹس فراڈ کیا ہے؟
جواب: یہ ایک مبینہ آن لائن دھوکہ دہی ہے جس میں جعلی پیجز TikTok اکاؤنٹس فروخت کرنے کے نام پر رقم لیتے ہیں۔
سوال 2: یہ فراڈ کیسے کیا جاتا ہے؟
جواب: ابتدائی ادائیگی کے بعد مختلف فیسوں کے نام پر مزید رقم طلب کی جاتی ہے اور آخر میں رابطہ ختم کر دیا جاتا ہے۔
سوال 3: متاثرہ افراد کو کیا کرنا چاہیے؟
جواب: فوری طور پر سائبر کرائم حکام کو رپورٹ کریں اور مزید رقم نہ بھیجیں۔









One Response