
پاکستان میں بارش اور دریاؤں میں سیلاب کی صورتحال تشویشناک
ملک کے مختلف حصوں میں آج بارش کا امکان ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق دریائے ستلج، سندھ اور چناب میں نچلے اور درمیانے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔

ملک کے مختلف حصوں میں آج بارش کا امکان ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق دریائے ستلج، سندھ اور چناب میں نچلے اور درمیانے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔

پاکستان میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ آج 24 اگست 2025 کو ملک کے کسی حصے میں ربیع الاوّل کا چاند نظر نہیں آیا۔ اس بنا پر پاکستان میں یکم ربیع الاوّل 26 اگست کو اور 12 ربیع الاوّل (عید میلاد النبی ﷺ) بروز ہفتہ 6 ستمبر 2025 کو منائی جائے گی۔

پاکستان میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کراچی میں جاری ہے جبکہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں ربیع الاول کے چاند کی رویت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ سعودی حکومت کے مطابق 24 اگست 2025 کو یکم ربیع الاول ہوگا اور 12 ربیع الاول (4 ستمبر) کو عید میلاد النبی ﷺ منائی جائے گی۔ پاکستان میں موسم کے باعث رویت کا فیصلہ رات کو متوقع ہے۔

پنجاب اور خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں اور بھارت کے پانی چھوڑنے کے بعد ڈیموں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی۔ دریائے سندھ، ستلج اور چناب میں اونچے درجے کے سیلاب سے ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ اور نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔

خیبر پختونخوا میں حالیہ بارشوں اور فلش فلڈنگ سے مختلف حادثات میں جاں بحق افراد کی تعداد 406 تک پہنچ گئی، ہزاروں گھر تباہ، سینکڑوں زخمی اور بنیادی ڈھانچہ متاثر۔

خیبرپختونخوا کے سیلاب زدہ اضلاع میں وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ 64 ہزار مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جاچکی ہے جبکہ ہیضہ، ڈینگی، ملیریا، سانس اور جلدی امراض کے کیسز میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔

پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے میں مون سون کے آٹھویں اسپیل کے آغاز کی پیشگوئی کرتے ہوئے وارننگ جاری کردی۔ 23 سے 27 اگست تک طوفانی بارشوں اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے

خیبرپختونخوا حکومت کا نیا ہیلی کاپٹر خریدنے کا اعلان، ہیلی کاپٹر حادثے کے شہداء کے ورثاء کو خصوصی پیکج خیبرپختونخوا حکومت کا اہم فیصلہ خیبرپختونخوا حکومت نے چند روز قبل حادثے کا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر کی جگہ نیا ہیلی کاپٹر خریدنے کا اعلان وباضابطہ فیصلہ کر لیا ہے۔

محکمہ موسمیات کی پیشگوئی: 23 سے 27 اگست تک ملک بھر میں بارشوں کا نیا سلسلہ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ 23 سے 27 اگست کے دوران ملک بھر میں بارشوں کا نیا سلسلہ داخل ہوگا جس کے باعث مختلف علاقوں میں بارشوں کا امکان ہے۔ اس دوران

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی کا نکاسی آب کا نظام 100 ملی میٹر سے زائد بارش برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اگر اس سطح کا نظام بنانا ہے تو پورا شہر دوبارہ کھودنا پڑے گا۔

خیبر پختونخوا میں حالیہ بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 393 افراد جاں بحق اور 190 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق ہزاروں گھروں کو جزوی اور مکمل نقصان پہنچا جبکہ سب سے زیادہ تباہی بونیر اور صوابی میں دیکھی گئی۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

کراچی میں حالیہ بارشوں کے بعد متعدد علاقے تاحال بجلی سے محروم ہیں۔ شہریوں کو اندھیروں، پانی کی قلت اور کاروباری نقصان کا سامنا ہے جبکہ کے الیکٹرک کے دعوؤں پر عوام نے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

کراچی میں دو روز کی طوفانی بارشوں نے نظامِ زندگی مفلوج کردیا۔ 245 ملی میٹر بارش کے بعد سڑکیں زیرِ آب، بجلی اور انٹرنیٹ سروس معطل، ٹریفک جام سے شہری پریشان جبکہ مختلف حادثات میں 15 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ سیاسی جماعتوں اور شہریوں نے کراچی کو "آفت زدہ علاقہ” قرار دینے کا مطالبہ کر دیا۔

کراچی میں گزشتہ روز ہونے والی موسلا دھار بارش نے شہر کا نظام زندگی درہم برہم کر دیا۔ بجلی کی طویل بندش، اہم شاہراہوں پر جمع پانی اور ٹریفک جام نے شہریوں کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے، جب کہ کئی علاقے اب بھی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

مون سون بارشوں اور سیلاب 2025: عطا تارڑ، آئی ایس پی آر اور این ڈی ایم اے کی اہم بریفنگ حکومت، فوج اور این ڈی ایم اے کی مشترکہ پریس بریفنگ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اور چیئرمین

خیبر پختونخوا میں بارشوں اور سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 45 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 358 ہوگئی۔ متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور ریسکیو سرگرمیاں تیز کردی گئی ہیں جبکہ مزید بارشوں کی پیش گوئی نے خطرات بڑھا دیے ہیں۔

پاکستان کے مختلف شہریوں میں 5.2 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا جس کا مرکز افغانستان کے ہندوکش ریجن میں تھا۔ زلزلے کے باعث اسلام آباد، راولپنڈی، خیبرپختونخوا اور شمالی علاقوں کے شہری خوفزدہ ہو کر گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔

پاکستان میں مون سون بارشوں کا نیا اسپیل تباہی مچانے لگا۔ خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی میں بادل پھٹنے سے درجنوں مکانات بہہ گئے، متعدد دیہات زیرآب آگئے اور 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔ پشاور، نوشہرہ، سوات، ایبٹ آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔ این ڈی ایم اے نے بادل پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے پر ہنگامی وارننگ جاری کردی۔

کلاؤڈ برسٹ کے نقصانات اور پاکستان میں حالیہ تباہ کن واقعات کلاؤڈ برسٹ کیا ہے؟ کلاؤڈ برسٹ ایک نایاب مگر انتہائی طاقتور موسمی واقعہ ہے، جس میں بہت قلیل وقت میں 200 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔ عام طور پر یہ پہاڑی علاقوں میں شدید گرج چمک کے

پاکستان بھر میں بارشوں کے نئے سلسلے نے دریاؤں کی سطح بلند کردی ہے جبکہ کئی مقامات پر نچلے اور درمیانے درجے کے سیلاب کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ محکمہ موسمیات اور فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے مزید بارشوں اور طغیانی کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے عوام کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی ہے۔

اسلام آباد میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کے بعد ضلعی انتظامیہ نے مارگلہ ہلز کی چار اہم ٹریلز سمیت سید پور گاؤں کے عقب میں واقع ٹریل کو بھی 19 اگست تک بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ شہریوں کو کسی ممکنہ حادثے سے بچایا جا سکے

این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں 22 اگست تک بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا جس میں مزید شدت متوقع ہے۔ شمالی پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں سیلاب کے شدید خطرات پیدا ہو گئے ہیں، تربیلا ڈیم 98 فیصد بھر چکا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے پاک فوج کو خصوصی ہدایات جاری کیں۔ فوجی جوانوں نے ایک دن کی تنخواہ اور 600 ٹن راشن عطیہ کر دیا جبکہ ہیلی کاپٹر، اربن ریسکیو ٹیم اور اضافی دستے متاثرہ علاقوں میں تعینات ہیں۔

پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے آئندہ 24 گھنٹوں میں شدید بارشوں اور کلاؤڈ برسٹنگ کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ محکمہ کے مطابق مون سون بارشوں کا ساتواں اسپیل سب سے زیادہ طاقتور ثابت ہوسکتا ہے جس کے باعث بالائی پنجاب میں طوفانی بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے اموات کی تعداد 320 سے تجاوز کرگئی ہے جہاں بونیر اور باجوڑ شدید متاثرہ علاقے ہیں۔ بونیر میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی جبکہ باجوڑ میں سیلابی ریلے کئی گاؤں بہا لے گئے۔ گزشتہ روز امدادی سرگرمیوں کے دوران خیبرپختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر بھی حادثے کا شکار ہوا جس میں 5 افراد شہید ہوگئے۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیرضروری سفر سے گریز کریں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہنگامی اجلاس میں ملک میں بارشوں اور سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، متاثرہ علاقوں میں فوری ریسکیو اور ریلیف آپریشن کے اقدامات تیز کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔