لندن میں بیرسٹر شہزاد اکبر پر حملہ، ناک اور جبڑا فریکچر، پولیس تفتیش شروع

بیرسٹر شہزاد اکبر پر حملہ ناک اور جبڑا فریکچر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

لندن میں بیرسٹر شہزاد اکبر پر حملہ، ناک اور جبڑا فریکچر، پولیس تفتیش شروع

لندن میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی معاون اور تحریک انصاف کے سابق مشیر برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر پر حملہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب وہ اپریل 2022 سے برطانیہ میں خودساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

مرزا شہزاد اکبر کی بھی تصدیق کی کہ ان پر حملہ ہوا، وہ اسپتال گئے، پولیس کو اطلاع دی گئی اور انہیں متعدد چوٹیں آئی ہیں جن میں فریکچر بھی شامل ہے۔

تحریک انصاف کے آفیشل ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر بدھ کی شب 9:50 بجے (پاکستانی وقت) کی گئی پوسٹ کے مطابق مرزا شہزاد اکبر پر کیمبرج میں ان کے گھر پر صبح کے وقت حملہ کیا گیا۔ پارٹی کے مطابق حملہ آور نے ان کے چہرے پر بار بار مکے مارے، جس کے نتیجے میں ان کی ناک اور جبڑا ٹوٹ گیا۔

پی ٹی آئی کے بیان میں کہا گیا کہ مقامی پولیس نے بیرسٹر شہزاد اکبر پر حملہ کی تمام تفصیلات جمع کر لی ہیں اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

علیمہ خان عمران خان بیان میڈیا سے گفتگو
انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے باہر علیمہ خان کی میڈیا سے گفتگو

واضح رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے دوران احتساب سے متعلق مشیر رہنے والے مرزا شہزاد اکبر اس سے قبل بھی نومبر 2023 میں ہارٹفورڈشائر میں اپنے گھر پر بیرسٹر شہزاد اکبر پر حملہ ہو چکا ہے۔ اس وقت ایک نقاب پوش شخص نے ان پر تیزابی مادہ پھینکا تھا۔ اس واقعے کے بعد شہزاد اکبر نے سوشل میڈیا پر بیان دیا تھا کہ وہ نہ مرعوب ہوں گے اور نہ ہی جھکیں گے۔

مرزا شہزاد اکبر نے ماضی کے حملے کو القادر ٹرسٹ کیس سے جوڑا تھا، جو تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے خلاف زیر سماعت ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ سیکیورٹی ادارے ان پر سابق وزیر اعظم کے خلاف گواہی دینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں میں انہیں ایسے پیغامات موصول ہوئے جن میں انہیں اپنے رویے “درست” کرنے کی وارننگ دی گئی۔

اپریل 2024 میں مرزا شہزاد اکبر نے 2023 کے تیزاب حملے کے معاملے پر پاکستانی حکومت کے خلاف برطانیہ کی عدالت میں قانونی کارروائی شروع کی تھی۔ ان کے مطابق انہوں نے برطانیہ میں موجود پاکستان ہائی کمیشن اور دیگر پاکستانی حکام کو بھی نوٹس بھجوائے تھے۔ تاہم مئی 2024 میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے ان الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔

دوسری جانب اسلام آباد کی ایک عدالت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مبینہ متنازع بیانات کے ایک مقدمے میں مرزا شہزاد اکبر کو اشتہاری ملزم قرار دے رکھا ہے۔ اس کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی نے برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ سے ملاقات میں شہزاد اکبر کی حوالگی سے متعلق کاغذات بھی حوالے کیے تھے۔

اگرچہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان باضابطہ حوالگی معاہدہ موجود نہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان ایک انتظام کے تحت جرائم یا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث پاکستانی شہریوں کو واپس بھیجنے کا طریقہ کار موجود ہے۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]