پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی قانون کی خلاف ورزی، شوہر پر فوجداری اور دیوانی کارروائی ہو سکتی: سپریم کورٹ

پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنا خلاف قانون
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی قانون کی خلاف ورزی ہے، جس پر شوہر کو فوجداری اور دیوانی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔: سپریم کورٹ

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے واضح قرار دیا ہے کہ پہلی بیوی کی تحریری اجازت اور ثالثی کونسل کی منظوری کے بغیر دوسری شادی کرنا مسلم فیملی لاز آرڈیننس کی صریح خلاف ورزی ہے، جس پر شوہر کو فوجداری اور دیوانی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اس حوالے سے پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا ہے، جو جسٹس مسرت ہلالی نے تحریر کیا۔ یہ فیصلہ نائلہ جاوید کیس میں سنایا گیا، جس میں سپریم کورٹ نے فیملی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق شوہر نے نہ تو پہلی بیوی سے تحریری اجازت لی اور نہ ہی ثالثی کونسل سے منظوری حاصل کی، جس کا اعتراف خود شوہر نے بھی دورانِ سماعت کیا۔ عدالت نے کہا کہ ایسی صورت میں دوسری شادی مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے سیکشن 6 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ پاکستان
پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ

سپریم کورٹ نے شوہر کو حکم دیا کہ وہ خاتون کو حق مہر کی مکمل رقم 12 لاکھ روپے ادا کرے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ تنسیخِ نکاح ایکٹ کے تحت اگر شوہر پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرے تو خاتون کو نکاح ختم کرانے کا قانونی حق حاصل ہے۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ عدالتیں بیوی کا بیان ریکارڈ کیے بغیر طلاق کے مطالبے کو خلع میں تبدیل نہیں کر سکتیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے سابقہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خلع صرف اور صرف خاتون کی واضح، آزاد اور رضاکارانہ رضامندی سے ہی ممکن ہے۔

فیصلے میں نشاندہی کی گئی کہ نائلہ جاوید نے ظلم اور قانونی بنیادوں پر تنسیخِ نکاح کی درخواست دائر کی تھی، تاہم فیملی کورٹ نے خاتون کے ظلم کے الزامات کا جائزہ لینے کے بجائے خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کر دیا اور خاتون کو حق مہر چھوڑنے کا حکم دیا، حالانکہ خاتون نے خلع کا مطالبہ ہی نہیں کیا تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ شوہر کی جانب سے نان و نفقہ کی عدم ادائیگی، دورانِ جرح خاتون کی کردار کشی اور پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی جیسے عوامل قانونی طور پر ظلم کے زمرے میں آتے ہیں۔ ایسے حالات میں خاتون کا شوہر کے ساتھ رہنے سے انکار نافرمانی نہیں بلکہ ایک جائز اور قانونی حق ہے۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ثالثی کونسل کی منظوری اور پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنے والے شوہر کو قانونی نتائج کا سامنا کرنا ہوگا، اور ایسی صورت میں خاتون کو نکاح ختم کرانے کے ساتھ ساتھ اپنے مالی حقوق حاصل کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]