ثنا یوسف قتل کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ میں منتقلی درخواست پر فیصلہ محفوظ

ثنا یوسف قتل کیس عدالت سماعت
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹک ٹاکر قتل کیس کی سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ملزم عمر حیات کی جانب سے کیس کو دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست پر سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

یہ سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں ہوئی، جہاں فریقین کے وکلا نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کیس کی پیش رفت اور ٹرائل کورٹ کے طرزِ عمل سے متعلق مختلف سوالات بھی اٹھائے۔

ملزم عمر حیات کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ کا رویہ ان کے ساتھ مناسب نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی التواء کی درخواست نہیں دی، اس کے باوجود عدالت نے سرکاری وکیل مقرر کر کے جرح کروا لی، جو کہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالت میں ایسے الفاظ استعمال کیے گئے جو کسی وکیل کے لیے مناسب نہیں، جس سے ان کا اعتماد مجروح ہوا ہے۔

ملزم کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ہونے والی جرح کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ جرح کا موقع دیا جائے اور کیس کو کسی دوسری عدالت میں منتقل کیا جائے، کیونکہ موجودہ عدالت پر ان کا اعتماد باقی نہیں رہا۔

دوسری جانب مدعی کے وکیل نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کیس کو غیر ضروری طور پر طول دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس کیس کو شروع ہوئے تقریباً دس ماہ گزر چکے ہیں، اور بیان قلمبند ہونے کے بعد چھ ماہ میں صرف دو گواہوں پر جرح کی گئی ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ ایک ماڈل کورٹ ہے اور اس نے ملزم کو کافی سہولت فراہم کی ہے، اس لیے کیس کی منتقلی کی کوئی ضرورت نہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ملزم کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وکیل کا عدالت کے ساتھ رویہ درست نہ ہو تو کارروائی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اگر جرح کے لیے وقت لیا جائے اور پھر اسے مکمل نہ کیا جائے تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ اس پر وکیل نے جواب دیا کہ ان کے اعتراضات ٹرائل کورٹ کے رویے اور ان کی عدم موجودگی میں کارروائی آگے بڑھانے سے متعلق ہیں۔

ملزم کے وکیل نے مزید بتایا کہ انہوں نے ٹرائل کورٹ میں بھی اس حوالے سے درخواست دائر کی تھی، جسے مسترد کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وکیل بیمار تھا تو عدالت کو کم از کم ایک موقع دینا چاہیے تھا، تاہم اس کے برعکس موقع پر ہی اسٹیٹ کونسل مقرر کر کے ایک گھنٹے میں جرح مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی، جو کہ انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔

فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد چیف جسٹس نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا، جو آئندہ سماعت میں سنائے جانے کا امکان ہے۔ اس کیس کو عوامی اور قانونی حلقوں میں خاصی اہمیت حاصل ہے، اور اس کے فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

ماہرین قانون کے مطابق عدالت کا فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا کیس کو دوسری عدالت میں منتقل کیا جائے گا یا موجودہ ٹرائل کورٹ میں ہی کارروائی جاری رہے گی۔ یہ فیصلہ نہ صرف اس کیس بلکہ مستقبل کے دیگر مقدمات کے لیے بھی ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]