میو ہسپتال لاہور: منکی پاکس کے کیسز میں تشویشناک اضافہ، شہری محتاط رہیں
لاہور: میو ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالمدبر نے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال منکی پاکس کے کیسز میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں اب تک مجموعی طور پر 32 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت میو ہسپتال میں 6 مریض زیرِ علاج ہیں، جبکہ لاہور اور اس کے گرد و نواح سے بھی نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالمدبر نے بتایا کہ اس بیماری سے ہر عمر کے افراد متاثر ہو رہے ہیں اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ متاثرہ مریضوں میں سے کسی نے حالیہ عرصے میں بیرونِ ملک سفر نہیں کیا، جس سے مقامی سطح پر وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو باعثِ تشویش قرار دیتے ہوئے فوری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ اگر جسم پر سرخ دھبے، خارش، بخار یا دیگر مشابہ علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر قریبی ہسپتال سے رجوع کریں تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق بروقت تشخیص نہ صرف مریض کی صحت کے لیے ضروری ہے بلکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
میو ہسپتال کے ایم ایس کے مطابق منکی پاکس کے علاج کے لیے فی الحال کوئی مخصوص دوا دستیاب نہیں، تاہم زیادہ تر مریض مناسب نگہداشت اور طبی رہنمائی کے تحت تقریباً 14 دن میں صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کو آئسولیشن میں رکھنا اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ دوسروں کو اس بیماری سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ڈاکٹر عبدالمدبر نے مزید بتایا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ رواں سال اب تک منکی پاکس کے باعث کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی، جبکہ گزشتہ سال 21 کیسز میں سے 3 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بار طبی سہولیات اور بروقت اقدامات کے باعث صورتحال قدرے بہتر ہے، تاہم احتیاط اب بھی ناگزیر ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ عوام میں آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ لوگ اس بیماری کی علامات، احتیاطی تدابیر اور علاج کے حوالے سے درست معلومات حاصل کر سکیں۔ اس کے لیے حکومتی اداروں، ہسپتالوں اور میڈیا کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ لاہور میں منکی پاکس کے بڑھتے کیسز ایک سنجیدہ صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات، عوامی شعور اور احتیاطی تدابیر انتہائی ضروری ہیں، تاکہ اس بیماری کے پھیلاؤ کو مؤثر طریقے سے روکا جا سکے۔


One Response