پاکستان ایل این جی ٹینڈر جاری — رسد بحران کے باعث اہم فیصلہ

پاکستان ایل این جی ٹینڈر کے بعد کراچی بندرگاہ پر ایل این جی جہاز
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایل این جی بحران شدت اختیار کر گیا، پاکستان نے عالمی سپلائرز سے ہنگامی ٹینڈر طلب کر لیا

پاکستان ایل این جی ٹینڈر جاری ہونے کی خبر نے توانائی کے شعبے میں ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ ملک کو ایک بار پھر مائع قدرتی گیس (LNG) کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ دسمبر 2023 کے بعد پہلی بار پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے بین الاقوامی مارکیٹ سے ایل این جی کارگو کے حصول کیلئے باقاعدہ ٹینڈر جاری کیا ہے، جو موجودہ توانائی بحران کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

‫برطانوی خبر ایجنسی Reuters کے مطابق کمپنی نے عالمی سپلائرز سے تقریباً 140,000 مکعب میٹر کے تین ایل این جی کارگو کیلئے بولیاں طلب کی ہیں۔ ان کارگو کی ترسیل مختلف تاریخوں میں متوقع ہے، جن میں 27 سے 30 اپریل، یکم سے 7 مئی، اور 8 سے 14 مئی شامل ہیں۔ یہ کارگو Port Qasim پر اتارے جائیں گے، جبکہ ٹینڈر 24 اپریل کو بند ہوگا۔‬

‫وفاقی وزیر توانائی Awais Leghari نے اس حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان ایل این جی ٹینڈر کا مقصد ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا اور مہنگے ایندھن جیسے ڈیزل اور فرنس آئل پر انحصار کو کم کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں حکومت کو اس بات کا یقین نہیں کہ قطر سے مزید ایل این جی کارگو کب تک موصول ہوں گے۔‬

یہ ٹینڈر ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب ملک میں بجلی کی شدید قلت دیکھنے میں آئی، جس کے باعث حالیہ دنوں میں مختلف شہروں میں لوڈشیڈنگ بھی کی گئی۔ ماہرین کے مطابق ہائیڈرو پاور میں کمی اور ایل این جی سپلائی میں خلل نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

پاکستان ایل این جی ٹینڈر کے پس منظر میں مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد ایران نے Strait of Hormuz سے گزرنے والی شپنگ کو محدود کر دیا، جو عالمی توانائی سپلائی کیلئے ایک اہم گزرگاہ ہے۔ یہ آبنائے خلیج کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے اور دنیا کی تقریباً 20 فیصد ایل این جی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔

قطر، جو پاکستان کو ایل این جی فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، اپنی توانائی کی برآمدات کیلئے اسی راستے پر انحصار کرتا ہے۔ گزشتہ سال پاکستان کی 6.64 ملین میٹرک ٹن ایل این جی درآمدات کا بڑا حصہ قطر سے حاصل کیا گیا تھا، تاہم موجودہ حالات میں سپلائی متاثر ہو چکی ہے۔

‫اس صورتحال میں SOCAR (آذربائیجان کی سرکاری توانائی کمپنی) نے پاکستان کو فوری مدد کی پیشکش کی ہے۔ کمپنی کے مطابق وہ اسلام آباد کی درخواست پر فوری طور پر ایل این جی فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔ یاد رہے کہ 2025 میں سوکار ٹریڈنگ اور پاکستان ایل این جی کے درمیان ایک فریم ورک معاہدہ بھی طے پایا تھا، جس کے تحت تیز رفتار خریداری ممکن بنائی گئی۔‬

‫دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان نے 2026-2027 کیلئے Eni کے ساتھ طویل المدتی معاہدے کے تحت 21 ایل این جی کارگو منسوخ کر دیے تھے، کیونکہ اس وقت یہ توقع کی جا رہی تھی کہ ملک میں توانائی کی طلب میں کمی آئے گی اور شمسی توانائی کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ تاہم موجودہ بحران نے اس حکمت عملی کو چیلنج کر دیا ہے۔‬

ماہرین توانائی کے مطابق اگرچہ پاکستان نے مقامی اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع پر انحصار بڑھانے کی کوشش کی ہے، لیکن ملک اب بھی عالمی سپلائی چین کے جھٹکوں سے متاثر ہوتا ہے۔ خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں جب بجلی کی طلب بڑھ جاتی ہے، ایل این جی کی دستیابی انتہائی ضروری ہو جاتی ہے۔

پاکستان ایل این جی ٹینڈر اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کو فوری بنیادوں پر توانائی کے مسائل حل کرنے کیلئے اقدامات کرنے پڑ رہے ہیں۔ اگرچہ یہ ایک عارضی حل ہو سکتا ہے، لیکن طویل المدتی بنیادوں پر توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش نے ایشیائی مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتوں کو بھی متاثر کیا ہے، جہاں قیمتیں تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف پاکستان بلکہ پورا ایشیا توانائی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔

عوامی سطح پر بھی اس خبر پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ توانائی بحران کا براہ راست اثر روزمرہ زندگی پر پڑتا ہے۔ لوڈشیڈنگ، مہنگی بجلی، اور صنعتی پیداوار میں کمی جیسے مسائل معیشت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان ایل این جی ٹینڈر ایک اہم قدم ہے، جو موجودہ بحران سے نمٹنے کیلئے اٹھایا گیا ہے۔ تاہم مستقبل میں ایسے مسائل سے بچنے کیلئے جامع حکمت عملی اور توانائی کے متبادل ذرائع پر توجہ دینا ضروری ہوگا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]