پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں اختلافات، وزیراعلیٰ نے ہنگامی اجلاس بلا لیا

کے پی اسمبلی اور پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں اختلافات کی خبر پر مشاورت
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

خیبر پختونخوا حکومت کے لیے بڑا چیلنج: پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے، وزیراعلیٰ کا ارکانِ اسمبلی کا اہم ترین اجلاس طلب

خیبر پختونخوا کی سیاست میں اس وقت زبردست ہلچل مچی ہوئی ہے اور حکمران جماعت کے اندرونی معاملات سنگین رخ اختیار کر رہے ہیں۔ صوبے میں برسرِاقتدار پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی دھڑے بندیوں کی خبریں اب حقیقت بن کر سامنے آ رہی ہیں۔ ذرائع کی جانب سے ملنے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں اختلافات شدید ہو گئے ہیں، جس کے بعد صوبائی حکومت اور تنظیم دونوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔

ان بڑھتے ہوئے تحفظات اور دباؤ کے پیشِ نظر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ہنگامی طور پر صورتحال کا کنٹرول سنبھالنے کا فیصلہ کیا ہے اور کل پارلیمانی پارٹی کا ایک اہم ترین اجلاس طلب کر لیا ہے۔

وزیراعلیٰ کا ہنگامی اقدام اور اجلاس کی تفصیلات

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کل شام 7 بجے پی ٹی آئی کے تمام ارکانِ صوبائی اسمبلی کو لازمی طور پر اس بیٹھک میں شرکت کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں اختلافات کی لہر کو بجٹ سے قبل ہی روکنا وزیراعلیٰ کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس ہنگامی اجلاس کا واحد ایجنڈا ارکان کے تحفظات کو سننا اور پارٹی کے اندر پیدا ہونے والی خلیج کو فوری طور پر پُر کرنا ہے۔

اگرچہ بظاہر یہ ایک روایتی مشاورتی عمل دکھائی دے رہا ہے، لیکن اندرونی ذرائع اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ اگر انہیں ابھی قابو نہ کیا گیا تو صوبائی حکومت کے لیے قانون سازی اور بجٹ کی منظوری میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ناراض ارکان کو منانے کی کوششیں تیز

صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی خود فرنٹ فٹ پر آ گئے ہیں۔ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں اختلافات کو ختم کرنے کے لیے انہوں نے صوبائی وزراء پر مشتمل خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جو ناراض ارکانِ اسمبلی سے مسلسل رابطے کر رہی ہیں۔ ان وزراء کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ ناراض گروپ کے ارکان سے ملاقاتیں کریں، ان کے حلقوں کے مسائل سنیں اور انہیں ترقیاتی فنڈز سمیت دیگر انتظامی امور پر یقین دہانیاں کروائیں۔

حکومتی حلقوں کی پوری کوشش ہے کہ کل شام ہونے والے سرکاری اجلاس سے پہلے ہی ان ارکان کو منا لیا جائے تاکہ میڈیا پر پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں اختلافات کا تاثر کمزور کیا جا سکے اور اپوزیشن کو اس سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے۔

ناراض گروپ کی متوازی حکمتِ عملی

دوسری جانب، ناراض ارکانِ اسمبلی نے بھی اپنے پتے شو کرنا شروع کر دیے ہیں۔ حکومتی اجلاس کی دعوت کے جواب میں ناراض گروپ نے اپنی باہمی مشاورت اور آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے کل سہ پہر 4 بجے ایک الگ متوازی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں اختلافات اب محض گپ شپ تک محدود نہیں رہے بلکہ ایک منظم گروپ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

یہ ناراض ارکان پہلے خود ایک جگہ سر جوڑ کر بیٹھیں گے تاکہ وزیراعلیٰ کے سامنے اپنے مطالبات متفقہ طور پر رکھے جا سکیں اور اپنی سیاسی پوزیشن کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔

بجٹ اور ارکان کی آزاد حیثیت کا چیلنج

موجودہ وقت حکومت کے لیے اس لیے بھی بہت نازک ہے کیونکہ صوبائی بجٹ سر پر ہے۔ ایسے اہم موقع پر پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں اختلافات کا اس طرح کھل کر سامنے آنا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے بڑی پریشانی اور دردِ سر کا باعث بن گیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف کے بیشتر ارکان کی حیثیت تکنیکی یا قانونی طور پر آزاد امیدواروں جیسی ہے، جس کی وجہ سے پارٹی ڈسپلن یا فلور کراسنگ کے قوانین ان پر اس طرح لاگو نہیں ہوتے جیسے عام حالات میں ہوتے ہیں۔

190 ملین پاؤنڈ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو 20 مئی تک حتمی مہلت دے دی

یہ آزاد حیثیت ناراض ارکان کو ایک اضافی طاقت اور اہم کردار دیتی ہے، جس کی بدولت وہ حکومت پر دباؤ بڑھانے کی پوزیشن میں ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ وزیراعلیٰ کا کل کا اجلاس پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں اختلافات کی اس آگ کو ٹھنڈا کرنے میں کتنا کامیاب ثابت ہوتا ہے۔