200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی سبسڈی برقرار رہے گی، اویس لغاری

Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی سبسڈی برقرار رہے گی، اویس لغاری

اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے واضح کیا ہے کہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے مستحق صارفین کی سبسڈی ختم نہیں کی جا رہی بلکہ انہیں بدستور ریلیف فراہم کیا جاتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی صارفین کے میٹرز کو QR کوڈ سسٹم سے منسلک کیا جا رہا ہے تاکہ مستحق اور غیر مستحق صارفین کی درست نشاندہی ممکن بنائی جا سکے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ حکومت پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے بجلی سبسڈی برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کے مطابق اس وقت بجلی پر سبسڈی حاصل کرنے والے صارفین کی تعداد 2 کروڑ 15 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ سبسڈی کے حجم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ QR کوڈ سسٹم کے ذریعے صارفین کا ڈیٹا مرتب کیا جائے گا اور اسی بنیاد پر سبسڈی کی اہلیت کا تعین کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض افراد بڑے سولر سسٹمز نصب کرکے اپنی 200 یونٹ تک بجلی کی کھپت سے کم ظاہر کر رہے ہیں، جس کے باعث وہ بھی سبسڈی حاصل کر رہے ہیں، جبکہ اس کا مالی بوجھ دیگر صارفین پر منتقل ہو رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بجلی سبسڈی کا حجم 199 ارب روپے سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ زرعی اور گھریلو شعبے کو مجموعی طور پر 527 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 20 لاکھ سے زائد سنگل فیز صارفین اپنی رجسٹریشن مکمل کرا چکے ہیں۔

آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان میں جی ایس ٹی بڑھانے کی تجویز
آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کی تجویز دے دی

اویس لغاری نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کی تردید کی کہ حکومت سبسڈی ختم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور حکومت صرف اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ سبسڈی حقیقی مستحقین تک پہنچے۔

انہوں نے پاور سیکٹر اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی کے نتیجے میں تقریباً 3500 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے، جبکہ ڈسکوز کے نقصانات میں کمی سے 193 ارب روپے کی اضافی بچت ممکن ہوئی۔ ان کے مطابق مالی سال 2024-25 میں سرکلر ڈیٹ میں 780 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ اصلاحات کے باعث مختلف شعبوں کے صارفین کو ریلیف ملا ہے۔ پروٹیکٹڈ صارفین کے بجلی نرخوں میں 31 فیصد، گھریلو صارفین کے نرخوں میں 16 فیصد، صنعتی صارفین کے نرخوں میں 33 فیصد اور زرعی صارفین کے لیے 14 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

سولر توانائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ حکومت سولرائزیشن کی مخالفت نہیں کر رہی بلکہ نظام کو مزید شفاف بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیٹ میٹرنگ مکمل طور پر ختم نہیں کی گئی بلکہ صرف بلنگ کے طریقہ کار میں اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سال 2035 تک ملک میں کلین انرجی کا حصہ 90 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مقامی وسائل سے بجلی پیدا کرنے کی شرح بھی 96 فیصد تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کا موجودہ حصہ 57 فیصد ہے جو خطے کے کئی ممالک سے بہتر ہے۔

اویس لغاری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات کے ذریعے بجلی کی لاگت میں مزید کمی، نظام میں شفافیت اور صارفین کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

 

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]