امریکا اور ایران کے درمیان رات بھر حملوں کا تبادلہ، آبنائے ہرمز اور قشم جزیرے کے قریب کشیدگی میں اضافہ

آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی فوجی کشیدگی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

امریکا اور ایران کے درمیان رات بھر حملوں کا تبادلہ، آبنائے ہرمز اور قشم جزیرے کے قریب کشیدگی میں اضافہ

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکا اور ایران نے ایک دوسرے کے فوجی اہداف پر حملوں کے دعوے کیے ہیں، جس کے باعث خطے میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

ترجمان پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے جواب میں امریکی اور اسرائیلی جہاز پر بحری میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپاسرائیل اور حزب اللہ اور ایران سے متعلق بیان
ٹرمپ نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فائر بندی اور ایران سے مذاکرات پر اہم بیان دیا۔

پاسدارانِ انقلاب نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے جزیرہ قشم میں آئی آر جی سی کے مواصلاتی ٹاور کو نشانہ بنایا، جس کے ردعمل میں ایران نے امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر اور فوجی ہیلی کاپٹروں پر حملہ کیا۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے بحرین میں واقع ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر یا فضائی اڈے پر کسی کامیاب ایرانی حملے کی تردید کی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے میزائل اور ڈرون اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

سینٹ کام کے مطابق ایران کی طرف سے بحرین کی جانب داغے گئے تین میزائل امریکی اور بحرینی افواج نے راستے میں ہی تباہ کر دیے جبکہ کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل بھی ہدف تک پہنچنے سے پہلے گر گئے۔

امریکی فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے قشم جزیرے پر ایرانی فوج کے زمینی کنٹرول اسٹیشن کو نشانہ بنایا اور بحری جہازوں کی سمت بھیجے گئے تین ایرانی ڈرونز کو بھی مار گرایا۔

امریکی دعوے کے مطابق ایران نے بعض پڑوسی ممالک کی سمت بیلسٹک میزائل داغنے کی کوشش کی، تاہم یہ حملے ناکام رہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان ایرانی کارروائیوں کے جواب میں قشم جزیرے پر مخصوص فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی امریکا اور ایران کے درمیان فوجی سرگرمیاں عالمی توانائی منڈیوں، سمندری تجارت اور علاقائی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہیں۔

 
READ MORE FAQS”

سوال: ایران نے امریکی حملوں کے بارے میں کیا دعویٰ کیا؟

جواب: ایران کے مطابق امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی آئل ٹینکر اور جزیرہ قشم میں مواصلاتی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

سوال: امریکا نے ایرانی حملوں کے بارے میں کیا مؤقف اختیار کیا؟

جواب: امریکی سینٹ کام نے بحرین میں ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر پر حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی میزائل اور ڈرون اپنے اہداف تک نہیں پہنچ سکے۔

سوال: قشم جزیرے پر کیا کارروائی ہوئی؟

جواب: امریکی حکام کے مطابق قشم جزیرے پر ایرانی فوج کے زمینی کنٹرول اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔

سوال: آبنائے ہرمز کی اہمیت کیا ہے؟

جواب: آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم بحری راستہ ہے، جہاں کسی بھی کشیدگی کے عالمی معیشت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

سوال: اس کشیدگی کے ممکنہ اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟

جواب: بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی تیل کی قیمتوں، سمندری تجارت، علاقائی سلامتی اور سفارتی تعلقات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]