ایل نینو سرگرم، پاکستان میں معمول سے کم بارشوں اور گرمی میں اضافے کا امکان
ایل نینو پاکستان بارشیں ایک بار پھر ملکی موسمی حالات پر اثر انداز ہونے جا رہا ہے اور محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 2016 کے بعد ایل نینو کے سرگرم ہونے سے اس سال ملک میں معمول سے کم بارشیں متوقع ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ موسمی نظام نہ صرف بارشوں کی مقدار کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ گرمی کی شدت، زراعت اور پانی کے ذخائر پر بھی نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ایل نینو ایک عالمی موسمی عمل ہے جو بحرالکاہل میں سطح سمندر کے درجہ حرارت کے غیر معمولی اضافے کے باعث سرگرم ہوتا ہے۔ اس عمل کے دوران دنیا کے مختلف حصوں میں موسمی پیٹرن تبدیل ہو جاتے ہیں۔ بعض علاقوں میں خشک سالی پیدا ہوتی ہے جبکہ کچھ ممالک میں شدید بارشیں اور سیلابی صورتحال دیکھنے میں آ سکتی ہے۔
پاکستان اور جنوبی ایشیا میں ایل نینو عام طور پر بارشوں میں کمی اور گرم موسم کا سبب بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رواں سال معمول سے کم بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
ایل نینو کیا ہے؟
ایل نینو دراصل سمندری اور فضائی درجہ حرارت کے باہمی تعلق سے پیدا ہونے والا موسمی نظام ہے۔ جب پیسفک اوشن کے مشرقی اور وسطی حصوں کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے تو دنیا بھر کے موسمی نظام متاثر ہوتے ہیں۔
یہ نظام عالمی سطح پر درجہ حرارت بڑھانے میں کردار ادا کرتا ہے اور کئی خطوں میں موسمی توازن کو بدل دیتا ہے۔
پاکستان میں کم بارشوں کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق ایل نینو کے دوران پاکستان میں مون سون بارشیں کم ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال سے زرعی شعبہ متاثر ہونے کا امکان ہے کیونکہ پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔
گندم، کپاس، چاول اور گنے سمیت کئی فصلیں مناسب بارشوں اور آبپاشی پر انحصار کرتی ہیں۔ اگر بارشیں معمول سے کم رہیں تو پیداوار میں کمی آ سکتی ہے۔
آبی ذخائر اور پانی کا مسئلہ
پاکستان پہلے ہی پانی کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ کم بارشوں کی صورت میں ڈیمز اور نہری نظام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بارشوں میں نمایاں کمی ہوئی تو پانی کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے جس کے اثرات زراعت اور شہری زندگی دونوں پر پڑیں گے۔
سندھ میں حالیہ بارشیں
اگرچہ مجموعی طور پر کم بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، تاہم مغربی ہواؤں کے باعث سندھ کے مختلف علاقوں میں بارش ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق:
- موہنجوداڑو میں 32 ملی میٹر بارش
- روہڑی میں 20 ملی میٹر بارش
- 104 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں
اس کے علاوہ خیرپور، دادو، گھوٹکی اور تھرپارکر میں بھی بارش کا امکان موجود ہے۔
بالائی علاقوں کیلئے پیشگوئی
محکمہ موسمیات کے مطابق 5 جون تک ملک کے بالائی علاقوں میں آندھی، گرج چمک اور بارش کا امکان موجود ہے۔
ان علاقوں میں وقتی بارش گرمی کی شدت کم کر سکتی ہے تاہم مجموعی موسمی رجحان اب بھی کم بارشوں کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
کراچی کا موسم
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں آئندہ دنوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔ درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔
ہوا میں نمی زیادہ ہونے کی وجہ سے گرمی کی شدت زیادہ محسوس ہو سکتی ہے، اس لیے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اور ایل نینو
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی نے ایل نینو جیسے موسمی نظام کے اثرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دنیا بھر میں غیر متوقع موسم، گرمی کی لہریں اور شدید بارشیں اسی بدلتے موسمی نظام کی مثالیں ہیں۔
پاکستان بھی ان اثرات سے محفوظ نہیں اور گزشتہ برسوں میں شدید گرمی، سیلاب اور خشک سالی جیسے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔
احتیاطی اقدامات
ماہرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں کو پانی ذخیرہ کرنے، زرعی منصوبہ بندی بہتر بنانے اور موسمی پیشگوئیوں پر عملدرآمد کی سفارش کی ہے۔
کسانوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فصلوں کی منصوبہ بندی کریں۔
ایل نینو پاکستان بارشیں اور مجموعی موسمی صورتحال پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق اس سال معمول سے کم بارشیں، زیادہ گرمی اور زراعت پر دباؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ ایسے میں بروقت منصوبہ بندی اور احتیاطی اقدامات انتہائی اہم ہوں گے۔








