گلگت بلتستان میں ووٹنگ کا آغاز، لاکھوں ووٹرز حق رائے دہی استعمال کرنے نکل آئے
گلگت بلتستان انتخابات 2026 کے سلسلے میں 24 حلقوں میں پولنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ووٹنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی۔ مختلف اضلاع میں ووٹرز کی بڑی تعداد پولنگ اسٹیشنز پر پہنچ رہی ہے اور جمہوری عمل میں بھرپور حصہ لے رہی ہے۔
انتخابی دن کے آغاز سے قبل ہی شہریوں میں خاصا جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ کئی علاقوں میں ووٹرز مقررہ وقت سے پہلے پولنگ اسٹیشنز کے باہر جمع ہو گئے اور ووٹنگ شروع ہوتے ہی اپنا حق رائے دہی استعمال کرنا شروع کر دیا۔
گلگت بلتستان کے عوام آج اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدوار میدان میں موجود ہیں اور متعدد حلقوں میں سخت مقابلے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق انتخابات میں مجموعی طور پر 9 لاکھ 58 ہزار 480 ووٹرز اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے اہل ہیں۔ ان میں 5 لاکھ 3 ہزار 772 مرد ووٹرز جبکہ 4 لاکھ 55 ہزار 708 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔
انتخابی مقابلے میں مختلف سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار متعدد حلقوں میں مضبوط پوزیشن رکھتے ہیں جبکہ دیگر سیاسی و مذہبی جماعتیں بھی انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق گلگت بلتستان بھر میں 1391 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 349 پولنگ اسٹیشن حساس جبکہ 551 انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں، جہاں اضافی سکیورٹی تعینات کی گئی ہے۔
انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ تقریباً 17 ہزار 500 پولیس اہلکار مختلف پولنگ اسٹیشنز اور حساس مقامات پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ سکیورٹی پلان نافذ کیا ہے تاکہ ووٹرز کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق آزادانہ، منصفانہ اور پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام ضروری اقدامات مکمل کیے گئے ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی ہدایات کے مطابق پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون، کیمرہ یا ویڈیو ریکارڈنگ کے آلات لے جانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد انتخابی عمل کی شفافیت اور رازداری کو یقینی بنانا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان انتخابات 2026 خطے کی سیاسی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔ عوام کی نظریں انتخابی نتائج پر مرکوز ہیں جبکہ امیدوار اور سیاسی جماعتیں بھی ووٹرز کے فیصلے کی منتظر ہیں۔








