سی ایم ایچ راولاکوٹ محاصرہ ختم، کالعدم ایکشن کمیٹی کے 3 افراد اپنی فائرنگ سے مارے گئے، ترجمان آئی جی
آزاد کشمیر احتجاج کے دوران سی ایم ایچ راولاکوٹ کا محاصرہ ختم
آزاد کشمیر احتجاج اور حالیہ کشیدہ صورتحال کے تناظر میں راولاکوٹ ایک مرتبہ پھر خبروں کی زینت بن گیا، جہاں ترجمان انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس آزاد کشمیر نے دعویٰ کیا ہے کہ سی ایم ایچ راولاکوٹ کے محاصرے کے دوران کالعدم قرار دی گئی ایکشن کمیٹی کے مسلح عناصر کی فائرنگ سے ان کے اپنے ہی 3 افراد ہلاک ہوئے۔
ترجمان کے مطابق 7 جون کو راولاکوٹ میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی گئی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر منصوبہ بندی کے تحت فائرنگ کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران حساس مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش بھی کی گئی، جس کے بعد سکیورٹی اداروں نے صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کیے۔
سی ایم ایچ راولاکوٹ کا محاصرہ
پولیس ترجمان کے مطابق مسلح عناصر نے سی ایم ایچ راولاکوٹ کا محاصرہ کر لیا تھا، جس سے ہسپتال کی معمول کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ مریضوں، طبی عملے اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ علاج معالجے کی بعض خدمات بھی متاثر ہوئیں۔
بیان میں کہا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انتہائی تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کی کوشش کی۔
رات گئے کارروائی
ترجمان آئی جی کے مطابق 7 اور 8 جون کی درمیانی شب محدود نوعیت کی کارروائی کی گئی جس کا مقصد ہسپتال کا محاصرہ ختم کرانا اور شہریوں کو محفوظ بنانا تھا۔
کارروائی کے دوران:
- شہریوں کے تحفظ کو ترجیح دی گئی
- مریضوں اور طبی عملے کی حفاظت یقینی بنائی گئی
- سرکاری املاک کو نقصان سے بچانے کی کوشش کی گئی
- سی ایم ایچ راولاکوٹ کو مکمل طور پر کلیئر کروا لیا گیا
حکام کے مطابق آپریشن کے بعد ہسپتال میں طبی سرگرمیاں دوبارہ معمول پر آ چکی ہیں۔
سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت
پولیس ترجمان کے مطابق 6 جون سے جاری کشیدگی اور فائرنگ کے مختلف واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 4 اہلکار جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
شہید ہونے والوں میں:
- راولاکوٹ پولیس کے 3 اہلکار
- فرنٹیئر کانسٹیبلری کا 1 اہلکار
شامل ہیں جبکہ متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
3 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ
ترجمان آئی جی آزاد کشمیر کا کہنا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے 3 افراد اپنی ہی اندھا دھند فائرنگ کی زد میں آ کر مارے گئے۔
حکام کے مطابق زخمیوں کی تعداد بھی متعدد ہے جبکہ بعض ہلاکتیں 5 اور 6 جون کی رات پیش آنے والے واقعات سے منسلک بتائی جا رہی ہیں۔
البتہ اس دعوے کے حوالے سے آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ مختلف فریقین کی جانب سے واقعات کی الگ الگ تفصیلات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
آزاد کشمیر میں موجودہ صورتحال
حکام کے مطابق راولاکوٹ سمیت متعدد علاقوں میں حالات بتدریج معمول پر آ رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق:
- کوہالہ میں تمام مارکیٹیں کھلی رہیں
- تجارتی سرگرمیاں جاری رہیں
- متعدد علاقوں میں معمولات زندگی بحال رہے
حکام نے دعویٰ کیا کہ عوام کی بڑی تعداد نے احتجاجی کال میں حصہ نہیں لیا۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں آزاد کشمیر حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔
حکومتی موقف کے مطابق یہ فیصلہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا، جبکہ کمیٹی کے حامی اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
اسی تناظر میں 9 جون کی ہڑتال اور احتجاجی کال سامنے آئی جس کے بعد سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے۔
سیاسی اور سماجی اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ کشیدگی نے آزاد کشمیر کی سیاسی فضا کو متاثر کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ:
- سیاسی مکالمے کی ضرورت بڑھ گئی ہے
- عوامی خدشات کو سننا ضروری ہے
- امن و امان اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن قائم کرنا اہم ہوگا
آنے والے دنوں میں حکومتی اقدامات اور سیاسی ردعمل صورتحال کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔
امن و امان کے چیلنجز
سکیورٹی ماہرین کے مطابق احتجاجی سرگرمیوں کے دوران:
- حساس تنصیبات کا تحفظ
- عوامی جان و مال کی حفاظت
- طبی مراکز کی سکیورٹی
- ٹریفک اور روزمرہ زندگی کی بحالی
انتظامیہ کے لیے سب سے بڑے چیلنجز ہوتے ہیں۔
مستقبل کی صورتحال
موجودہ صورتحال میں انتظامیہ مسلسل نگرانی کر رہی ہے جبکہ مختلف اضلاع میں سکیورٹی الرٹ برقرار ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے تمام ادارے تیار ہیں اور امن و امان برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
READ MORE FAQS
1. سی ایم ایچ راولاکوٹ کا محاصرہ کب ختم ہوا؟
ترجمان آئی جی کے مطابق 7 اور 8 جون کی درمیانی شب کارروائی کے بعد محاصرہ ختم کروا دیا گیا۔
2. کتنے سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے؟
پولیس کے مطابق 4 اہلکار شہید ہوئے جن میں 3 پولیس اور ایک فرنٹیئر کانسٹیبلری اہلکار شامل ہے۔
3. کالعدم ایکشن کمیٹی کے کتنے افراد ہلاک ہوئے؟
ترجمان آئی جی کے مطابق 3 افراد اپنی ہی فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہوئے۔








