وفاقی بجٹ 2026-27 آج پیش ہوگا، تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا امکان:وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

وفاقی بجٹ 2026-27 آج پیش ہوگا، تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی توقع
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وفاقی بجٹ 2026-27 آج پارلیمنٹ میں پیش، سرکاری ملازمین کیلئے خوشخبری متوقع

وفاقی بجٹ 2026-27 آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے سمیت مختلف شعبوں کیلئے اہم مالی تجاویز شامل ہونے کا امکان ہے۔ بجٹ کا مجموعی حجم 17.5 ٹریلین روپے سے زائد متوقع ہے جبکہ حکومت آئندہ مالی سال کیلئے معاشی استحکام، ٹیکس اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس بجٹ منظوری کیلئے منعقد ہوگا، جس کے بعد وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔

سرکاری ملازمین کیلئے متوقع ریلیف

بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ اس کے علاوہ تنخواہ دار طبقے کیلئے تقریباً 50 ارب روپے تک کے ٹیکس ریلیف پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

حکومت انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کرنے پر غور کر رہی ہے جبکہ بعض آمدنی کے درجوں پر ٹیکس شرح میں کمی کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس اقدام سے لاکھوں ملازمین کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

سولر پینلز اور الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق اہم فیصلے

ذرائع کے مطابق سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز واپس لے لی گئی ہے۔ اسی طرح اسٹیشنری اشیاء پر مجوزہ اضافی ٹیکس بھی بجٹ کا حصہ نہیں ہوگا۔

الیکٹرک گاڑیوں کیلئے مراعاتی پیکیج متوقع ہے، جبکہ مقامی سطح پر تیار ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں کے پرزوں پر کسٹم ڈیوٹی ایک فیصد تک محدود رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دوسری جانب درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس بڑھائے جانے کا امکان موجود ہے۔

دفاع، ترقیاتی منصوبے اور قرضوں کی ادائیگی

بجٹ دستاویزات کے مطابق دفاعی شعبے کیلئے تقریباً 3 ہزار ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 7 ہزار 824 ارب روپے رکھے جا سکتے ہیں۔

وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) کا حجم ایک ہزار ارب روپے متوقع ہے جبکہ قومی ترقیاتی منصوبے کیلئے 3 ہزار 669 ارب روپے کی منظوری پہلے ہی دی جا چکی ہے۔

روزگار اور معاشی اہداف

حکومت آئندہ مالی سال میں 20 لاکھ نئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ زراعت کیلئے 3.8 فیصد، صنعت کیلئے 4 فیصد اور بڑی صنعتوں کیلئے 4.5 فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

کرپٹو ٹریڈنگ اور نئے ٹیکس اقدامات

بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق کرپٹو لین دین پر 10 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ حکومت نئے مالی سال میں تقریباً 220 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات متعارف کرا سکتی ہے جبکہ اضافی ریونیو حاصل کرنے کیلئے انفورسمنٹ اور ٹیکس اصلاحات پر بھی توجہ دی جائے گی۔

اشیائے ضروریہ اور سیلز ٹیکس

فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل، چینی، چائے اور دیگر اشیائے خورونوش کو تیسرے شیڈول میں شامل کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جس کے تحت پیکنگ پر پرچون قیمت کی پرنٹنگ لازمی ہوگی۔ بعض ماہرین کے مطابق اس اقدام سے قیمتوں میں اضافے کا امکان بھی موجود ہے۔

READ MORE FAQS

وفاقی بجٹ 2026-27 کب پیش کیا جائے گا؟

وفاقی بجٹ 2026-27 آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

کیا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہوگا؟

ذرائع کے مطابق تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجاویز زیر غور ہیں۔

کیا ٹیکس ریلیف ملنے کا امکان ہے؟

جی ہاں، تنخواہ دار طبقے کیلئے تقریباً 50 ارب روپے تک کے ٹیکس ریلیف کی تجویز موجود ہے۔

سولر پینلز پر ٹیکس میں کیا تبدیلی ہوگی؟

سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 18 فیصد کرنے کی تجویز واپس لیے جانے کا امکان ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]