معیشت درست سمت میں گامزن، معاشی استحکام سے گروتھ کی جانب بڑھ رہے ہیں، صوبوں کی جانب سے وفاق کے ساتھ تعاون پر شکریہ ادا : وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور حکومت معاشی استحکام سے معاشی ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے۔
اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں کم تنخواہ دار طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تنخواہ پر عائد 5 فیصد ٹیکس کو کم کرکے ایک فیصد جبکہ 15 فیصد ٹیکس کو 13 فیصد کر دیا گیا ہے، جس پر عوام اور کاروباری حلقوں کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ تعمیراتی شعبے میں ٹیکسوں میں کمی کی گئی ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کے لیے ایگریکلچر کریڈٹ میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور اس کا حجم 2 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زرخیزی اسکیم بہتر انداز میں آگے بڑھ رہی ہے اور چھوٹے کسانوں کو قرضوں کے حصول کے لیے اپنے گھر گروی رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ نوجوانوں کے لیے قرض اسکیم کا مجموعی حجم 262 ارب روپے ہے، جس میں سے 125 ارب روپے زرعی شعبے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ زرعی مشینری کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی، اضافی کسٹم ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی کو صفر کر دیا گیا ہے تاکہ جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ میں ٹیکس نظام میں اصلاحات اور برآمدات کے فروغ کے لیے قابل عمل اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ 70 ارب روپے کی اضافی سبسڈی بھی فراہم کی گئی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق حکومت نے برآمدات بڑھانے اور زرعی شعبے کی استعداد میں اضافے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو مہنگائی میں بھی مزید کمی آنے کا امکان ہے۔
وزیر خزانہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ توانائی کے شعبے کے انفراسٹرکچر پر دباؤ موجود ہے اور یہ صورتحال آئندہ مالی سال میں بھی کسی حد تک برقرار رہ سکتی ہے، تاہم حکومت معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے صوبوں کی جانب سے وفاق کے ساتھ تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کو فراہم کی جانے والی یہ معاونت آئندہ تین مالی سال تک جاری رہے گی۔
#Live: Finance Minister Muhammad Aurangzeb along with Information Minister @TararAttaullah and MoS @BilalAKayani, addressing Post Budget Conference in #Islamabad @Financegovpk @MoIB_Official #Budget2026_27 #RadioPakistan #News
https://t.co/Tt1fCOimTF
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) June 13, 2026
READ MORE FAQS”
سوال: وزیر خزانہ نے معیشت کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور حکومت معاشی استحکام سے ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے۔
سوال: تنخواہ دار طبقے کو کیا ریلیف دیا گیا؟
جواب: 5 فیصد ٹیکس کو کم کرکے ایک فیصد اور 15 فیصد ٹیکس کو 13 فیصد کرنے کا اعلان کیا گیا۔
سوال: زرعی شعبے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟
جواب: زرعی قرضوں میں اضافہ، زرعی مشینری پر ڈیوٹی ختم اور چھوٹے کسانوں کے لیے آسان قرضہ اسکیم متعارف کرائی گئی۔
سوال: نوجوان قرض اسکیم کا حجم کتنا ہے؟
جواب: نوجوان قرض اسکیم کا مجموعی حجم 262 ارب روپے ہے، جس میں 125 ارب روپے زرعی شعبے کے لیے مختص ہیں۔
سوال: برآمدات کے فروغ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟
جواب: حکومت نے ٹیکس اصلاحات، اضافی سبسڈی اور قابل عمل پالیسی اقدامات کے ذریعے برآمدات بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔






