خیبرپختونخوا بارشیں: 7 افراد جاں بحق، 33 زخمی
خیبرپختونخوا بارشوں نے صوبے بھر میں شدید تباہی مچا دی ہے، جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی موسلا دھار بارشوں اور تیز ہواؤں کے باعث مختلف حادثات میں کم از کم 7 افراد جاں بحق اور 33 زخمی ہو گئے ہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق بنوں، شانگلہ، مانسہرہ اور دیگر اضلاع میں مسلسل بارشوں کے باعث کئی کچے اور پختہ مکانات کی چھتیں اور دیواریں گر گئیں، جس سے جانی نقصان پیش آیا۔ جاں بحق ہونے والوں میں 4 مرد، ایک خاتون اور 2 بچے شامل ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شدید موسم کا اثر عام شہریوں کی زندگیوں پر کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔
زخمی ہونے والوں کی تعداد 33 تک پہنچ چکی ہے، جن میں 7 مرد، 12 خواتین اور 14 بچے شامل ہیں۔ انہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ طبی حکام کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ دیگر کو ابتدائی طبی امداد فراہم کر دی گئی ہے۔
ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر ادارے متاثرہ علاقوں میں مسلسل سرگرم ہیں۔ ملبہ ہٹانے، لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر آپریشن جاری ہے۔ حکام نے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے ریلیف کیمپ بھی قائم کر دیے ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ شدید بارشوں اور خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ خاص طور پر پہاڑی علاقوں اور سیاحتی مقامات کا رخ نہ کیا جائے کیونکہ لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ چکا ہے۔
محکمہ موسمیات پہلے ہی خبردار کر چکا تھا کہ 11 سے 13 جون کے دوران ملک کے بالائی علاقوں میں تیز ہوائیں، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یہی موسمی صورتحال اس وقت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ خیبرپختونخوا میں بارشوں نے تباہی مچائی ہو۔ رواں سال مئی میں بھی بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں 2 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے تھے۔ تاہم اس بار بارشوں کی شدت نسبتاً زیادہ بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث نقصانات میں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی کٹائی اور نکاسی آب کے ناقص نظام کے باعث ایسے حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شہری آبادیوں میں غیر منصوبہ بندی کے ساتھ تعمیرات بھی نقصان کی ایک بڑی وجہ ہیں۔
حکام نے مزید کہا ہے کہ ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے اور شہری کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
READ MORE FAQS
سوال 1: خیبرپختونخوا بارشیں سے کتنے افراد جاں بحق ہوئے؟
جواب: تازہ اطلاعات کے مطابق 7 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
سوال 2: کتنے افراد زخمی ہوئے؟
جواب: بارشوں کے باعث 33 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سوال 3: سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع کون سے ہیں؟
جواب: بنوں، شانگلہ اور مانسہرہ سمیت کئی اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔
سوال 4: کیا ریسکیو آپریشن جاری ہے؟
جواب: جی ہاں، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔








