وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیے، پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی
اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت اسلام آباد میمورنڈم آف انڈراسٹیڈنگ پر بطور ثالث دستخط کردیے اور اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی تاریخی “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” (Islamabad Memorandum of Understanding) پر باضابطہ طور پر دستخط مکمل ہو چکے ہیں، جس کے بعد معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگیا ہے۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے الیکٹرانک دستخط کیے جبکہ پاکستان نے بطور ثالث دستخط اور ضامن کے طور پر اس معاہدے کی توثیق کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں اس پیش رفت کو خطے اور عالمی امن کے لیے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اور تہران نے تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے کھول دے گا جبکہ امریکا اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔ اس پیش رفت سے عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت میں استحکام آنے کی توقع ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق پاکستان اور قطر کی مشترکہ میزبانی میں 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوگی جس میں اس تاریخی پیش رفت کو باضابطہ طور پر سراہا جائے گا اور دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز بھی متوقع ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی مذاکراتی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور دیگر حکام کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت نے ایک ایسے بحران کے خاتمے میں مدد دی جو پورے خطے اور عالمی معیشت کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی قیادت، صدر مسعود پیزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر ایرانی حکام کی امن کے لیے کاوشوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

بیان میں قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے سفارتی کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پس پردہ سفارتی کوششوں کو معاہدے کی کامیابی میں کلیدی عنصر قرار دیا گیا۔
دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطے اور دنیا کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ خطے میں پائیدار امن، معاشی استحکام اور ترقی کے نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے صدور کے الیکٹرانک دستخطوں کے بعد مفاہمتی یادداشت نافذ العمل ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق آئندہ 60 روز تک کسی بھی فریق کو خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے یا نئی پابندیاں عائد کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
امریکی انتظامیہ نے بھی معاہدے کا سرکاری متن جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 14 نکاتی دستاویز میں آبنائے ہرمز کی بحالی، ایران پر بعض مالی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی اور جوہری پروگرام سے متعلق آئندہ مذاکرات کے فریم ورک کا تعین کیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت نہ صرف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت (Islamabad Memorandum of Understanding) پر بطور ثالث دستخط کردئے۔
اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں۔ pic.twitter.com/1prDCDub0B
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) June 18, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کیا ہے؟
جواب: یہ امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والا ایک سفارتی معاہدہ ہے جس کا مقصد کشیدگی میں کمی اور امن کا فروغ ہے۔
سوال 2: اس معاہدے میں پاکستان کا کیا کردار ہے؟
جواب: پاکستان نے ثالث اور ضامن کے طور پر مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا اور دونوں فریقوں کو معاہدے تک پہنچانے میں مدد دی۔
سوال 3: آبنائے ہرمز کے حوالے سے کیا فیصلہ ہوا؟
جواب: معاہدے کے مطابق آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے کھولا جائے گا جبکہ امریکا بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔
سوال 4: کیا ایران پر پابندیاں ختم ہوں گی؟
جواب: معاہدے کے تحت ایران پر بعض مالی اور تیل سے متعلق پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کی جا سکتی ہے۔
سوال 5: اس معاہدے کے عالمی اثرات کیا ہوں گے؟
جواب: ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے عالمی تیل منڈی، بین الاقوامی تجارت اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔






