سینیئر اسپورٹس جرنلسٹ قمر احمد انتقال کر گئے، کرکٹ صحافت کا ایک عہد اختتام پذیر

قمر احمد انتقال، پاکستان کے سینیئر اسپورٹس جرنلسٹ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

قمر احمد انتقال: پاکستان کے سینیئر اسپورٹس جرنلسٹ 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

قمر احمد انتقال کر گئے۔ پاکستان کے معروف اور سینیئر اسپورٹس صحافی Qamar Ahmed 88 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے، جس کے بعد صحافتی، کرکٹ اور اسپورٹس حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔

اہل خانہ کے مطابق قمر احمد کافی عرصے سے علیل تھے اور دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد ملک بھر سے صحافیوں، کرکٹ شخصیات اور مداحوں نے افسوس کا اظہار کیا۔

کرکٹ صحافت کا معتبر نام

قمر احمد انتقال پاکستانی اسپورٹس جرنلزم کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا شمار پاکستان کے ابتدائی اور معتبر کرکٹ صحافیوں میں ہوتا تھا جنہوں نے کئی دہائیوں تک قومی اور بین الاقوامی کرکٹ کی رپورٹنگ کی۔

انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں 400 سے زائد ٹیسٹ میچز اور 600 سے زائد ایک روزہ بین الاقوامی میچز کی کوریج کی۔ اس کے علاوہ متعدد عالمی کرکٹ ٹورنامنٹس اور آئی سی سی ایونٹس کی رپورٹنگ بھی ان کے کریڈٹ پر موجود ہے۔

بین الاقوامی سطح پر پہچان

23 اکتوبر 1937 کو Uttar Pradesh میں پیدا ہونے والے قمر احمد نے صحافت کے میدان میں بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔

وہ ایک طویل عرصے تک England میں مقیم رہے جہاں انہوں نے عالمی کرکٹ پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار اور مصنف کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ ان کی تحریریں دنیا بھر کے کرکٹ شائقین اور ماہرین میں مقبول تھیں۔

صحافت کے ساتھ کرکٹ کا عملی تجربہ

قمر احمد صرف صحافی ہی نہیں بلکہ ایک اچھے کرکٹر بھی تھے۔ انہوں نے 17 فرسٹ کلاس میچز میں شرکت کی اور کرکٹ کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

انہیں قائداعظم ٹرافی میں حیدرآباد کی ٹیم کی قیادت کا اعزاز بھی حاصل رہا، جس کی وجہ سے ان کے تجزیوں میں عملی تجربے کی جھلک نمایاں نظر آتی تھی۔

قمر احمد انتقال کی خبر کے بعد کرکٹ اور میڈیا سے وابستہ شخصیات نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف ایک بہترین صحافی بلکہ نوجوان صحافیوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بھی تھے۔

ان کی تحریروں میں غیر جانبداری، تحقیق اور کھیل کی گہری سمجھ نمایاں ہوتی تھی، جس نے انہیں کرکٹ صحافت کے ممتاز ناموں میں شامل کیا۔

نماز جنازہ

اہل خانہ کے مطابق مرحوم کی نماز جنازہ آج بعد نماز مغرب کراچی کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 4 میں واقع مسجد بیت السلام میں ادا کی جائے گی۔

  • قمر احمد کی نمایاں خدمات
  • 400 سے زائد ٹیسٹ میچز کی کوریج
  • 600 سے زائد ون ڈے انٹرنیشنل میچز کی رپورٹنگ
  • متعدد آئی سی سی ایونٹس کی کوریج
  • 17 فرسٹ کلاس میچز میں شرکت
  • قائداعظم ٹرافی میں حیدرآباد ٹیم کی قیادت
  • بین الاقوامی سطح پر کرکٹ تجزیہ نگار کے طور پر شناخت

قمر احمد انتقال کے ساتھ پاکستان کی اسپورٹس جرنلزم ایک ایسے نامور صحافی سے محروم ہو گئی ہے جس نے اپنی پوری زندگی کرکٹ کی ترویج، رپورٹنگ اور تجزیے کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کی خدمات، تحریریں اور کرکٹ کے حوالے سے گراں قدر علمی سرمایہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

READ MORE FAQS

قمر احمد کون تھے؟

قمر احمد پاکستان کے معروف اسپورٹس صحافی، کرکٹ رائٹر اور تجزیہ کار تھے۔

قمر احمد کی عمر کتنی تھی؟

ان کے انتقال کے وقت عمر 88 برس تھی۔

قمر احمد کس بیماری میں مبتلا تھے؟

اہل خانہ کے مطابق وہ دل کے عارضے میں مبتلا تھے اور کافی عرصے سے علیل تھے۔

قمر احمد نے کتنے ٹیسٹ میچز کی کوریج کی؟

انہوں نے 400 سے زائد ٹیسٹ میچز کی رپورٹنگ کی۔

اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6

🕌 نماز کے اوقات

فجر03:13 AM
طلوع آفتاب04:57 AM
ظہر12:09 PM
عصر03:53 PM
مغرب07:20 PM
عشاء09:04 PM