خانیوال کے قریب شالیمار ایکسپریس کی بوگی ڈی ریل، ریلیف ٹرین روانہ
شالیمار ایکسپریس حادثہ خانیوال کے قریب اس وقت پیش آیا جب لاہور سے کراچی جانے والی 28 ڈاؤن شالیمار ایکسپریس کی ایک بوگی ریلوے اسٹیشن کے قریب پٹڑی سے اتر گئی۔ واقعے کے باعث ٹرین کی آمد و رفت عارضی طور پر متاثر ہوئی، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور تمام مسافر محفوظ رہے۔
ریلوے حکام کے مطابق بوگی کے پٹڑی سے اترنے کے باعث شالیمار ایکسپریس کو تقریباً ایک گھنٹے کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ حادثے کے فوری بعد ریلوے عملہ موقع پر پہنچ گیا اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
متاثرہ بوگی کو ہٹانے اور ٹریک کو بحال کرنے کے لیے ملتان سے ریلیف ٹرین روانہ کی گئی۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ٹرین کو جلد از جلد اپنی منزل کی جانب روانہ کرنے کے لیے بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے تاکہ دیگر ٹرینوں کی آمد و رفت بھی معمول پر لائی جا سکے۔
ترجمان ریلوے ملتان ڈویژن کے مطابق واقعے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم ٹریک، بوگی اور دیگر تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لے گی تاکہ حادثے کی اصل وجہ سامنے لائی جا سکے اور آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔
ریلوے حکام نے مسافروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ٹریک کی بحالی اور ٹرینوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
READ MORE FAQS
- شالیمار ایکسپریس کا حادثہ کہاں پیش آیا؟
خانیوال ریلوے اسٹیشن کے قریب لاہور سے کراچی جانے والی شالیمار ایکسپریس کی ایک بوگی پٹڑی سے اتر گئی۔
- کیا حادثے میں کوئی جانی نقصان ہوا؟
نہیں، ریلوے حکام کے مطابق حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور تمام مسافر محفوظ رہے۔
- حادثے کے بعد کیا اقدامات کیے گئے؟
ملتان سے ریلیف ٹرین روانہ کی گئی اور متاثرہ بوگی کو ہٹانے کے ساتھ ٹریک کی بحالی کا کام شروع کر دیا گیا۔
- ٹرین کو کتنی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا؟
بوگی کے پٹڑی سے اترنے کے باعث شالیمار ایکسپریس کو تقریباً ایک گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔








