سہیل آفریدی وارنٹ گرفتاری برقرار، عدالت کا گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

سہیل آفریدی وارنٹ گرفتاری کیس کی سماعت کے دوران عدالت کا حکم
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ریاستی اداروں پر الزامات کیس: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

سہیل آفریدی وارنٹ گرفتاری کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے انہیں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

اسلام آباد کی عدالت میں ریاستی اداروں پر مبینہ گمراہ کن الزامات اور اداروں کی ساکھ متاثر کرنے سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی عدالت میں پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے پہلے سے جاری ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔

عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے آئندہ سماعت پر عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔ تاہم سینیئر سول جج عباس شاہ کی عدم دستیابی کے باعث کیس میں مزید پیش رفت نہ ہو سکی۔

عدالت نے مقدمے کی آئندہ سماعت 21 جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے تمام فریقین کو مقررہ تاریخ پر پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

یاد رہے کہ یہ مقدمہ پیکا ایکٹ کے تحت درج کیا گیا تھا۔ قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے (NCCIA) نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے خلاف ریاستی اداروں کے بارے میں مبینہ گمراہ کن بیانات اور الزامات کے حوالے سے کارروائی شروع کی تھی۔

قانونی ماہرین کے مطابق آئندہ سماعت میں عدالت ملزم کی حاضری، مقدمے کی پیش رفت اور تفتیشی رپورٹ کا جائزہ لے سکتی ہے۔ اس مقدمے پر سیاسی اور قانونی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں کیونکہ اس کا تعلق ایک اہم عوامی عہدے پر فائز شخصیت سے ہے۔

READ MORE FAQS

سہیل آفریدی کے خلاف مقدمہ کس نوعیت کا ہے؟

مقدمہ ریاستی اداروں پر مبینہ گمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے سے متعلق درج کیا گیا ہے۔

عدالت نے کیا حکم جاری کیا؟

عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

مقدمہ کس قانون کے تحت درج ہے؟

یہ مقدمہ پیکا (PECA) ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے۔

کیس کی اگلی سماعت کب ہوگی؟

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 21 جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔

متعلقہ خبریں