خضدار حملہ: شفیق الرحمن مینگل کی رہائشگاہ پر خودکش حملہ، 14 افراد جاں بحق

شفیق الرحمن مینگل کی رہائشگاہ پر حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی کارروائی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

خضدار میں شفیق الرحمن مینگل کی رہائشگاہ پر دہشت گرد حملہ، 14 افراد جاں بحق، 5 حملہ آور ہلاک

شفیق الرحمن مینگل حملہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں پیش آنے والا ایک بڑا دہشت گرد واقعہ ہے جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور ممتاز قبائلی شخصیت میر شفیق الرحمن مینگل کی رہائشگاہ کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں 14 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے، تاہم میر شفیق الرحمن مینگل محفوظ رہے۔

پولیس اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ انتہائی منظم انداز میں کیا گیا۔ ابتدائی مرحلے میں ایک خودکش حملہ آور نے رہائشگاہ کے مرکزی دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس سے داخلی راستے کو شدید نقصان پہنچا۔ دھماکے کے فوراً بعد دیگر مسلح حملہ آور کمپاؤنڈ میں داخل ہوگئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔

سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق تقریباً تین گھنٹے تک شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا، جس کے بعد تمام پانچ حملہ آور مارے گئے۔ اس دوران 5 پولیس اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 14 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

واقعے کے بعد علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا اور سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ زخمیوں اور جاں بحق افراد کو سی ایم ایچ اور ٹیچنگ ہسپتال خضدار منتقل کیا گیا جہاں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد عناصر بلوچستان کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، تاہم ریاست اور عوام ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گے۔ انہوں نے میر شفیق الرحمن مینگل کی بہادری کو سراہتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حملہ آوروں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت بھی کی۔

میر شفیق الرحمن مینگل ماضی میں بھی دہشت گرد حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ دسمبر 2011 میں کوئٹہ میں ان کی رہائشگاہ کے باہر ہونے والے ایک بڑے خودکش کار بم دھماکے میں 13 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری اس وقت ایک کالعدم مسلح تنظیم نے قبول کی تھی۔

حالیہ حملہ بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم واقعہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد صوبے بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

READ MORE FAQS

خضدار حملے میں کتنے افراد جاں بحق ہوئے؟

حملے میں مجموعی طور پر 14 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 5 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

شفیق الرحمن مینگل محفوظ رہے یا نہیں؟

جی ہاں، میر شفیق الرحمن مینگل حملے میں محفوظ رہے۔

حملہ آوروں کا کیا ہوا؟

سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں تمام 5 حملہ آور ہلاک ہوگئے۔

حملہ کس نوعیت کا تھا؟

یہ خودکش اور مسلح دہشت گرد حملہ تھا جس میں پہلے دھماکا اور پھر فائرنگ کی گئی۔

متعلقہ خبریں