امریکا سے جنگ ایران کی برتری: عباس عراقچی نے جنگ کے خاتمے کی شرط بتا دی

امریکا سے جنگ ایران کی برتری پر عباس عراقچی کا بیان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

امریکا سے جنگ ایران کی برتری کے بعد ہی ختم ہوگی، عباس عراقچی کا اہم بیان

تہران: امریکا سے جنگ ایران کی برتری کے حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جنگ کا اختتام صرف اس وقت مؤثر اور پائیدار ثابت ہوتا ہے جب متعلقہ ملک میدان جنگ میں واضح برتری حاصل کر چکا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران بھی اسی اصول کے تحت اپنے قومی مفادات اور سلامتی کو مقدم رکھتے ہوئے فیصلے کر رہا ہے۔

ایرانی خبر ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ کا خاتمہ دو بنیادی راستوں سے ممکن ہوتا ہے۔ پہلا راستہ عسکری کامیابی اور دوسرا سفارتی مذاکرات ہے، تاہم کامیاب مذاکرات اسی وقت نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں جب فوجی محاذ پر مضبوط پوزیشن حاصل ہو چکی ہو۔

انہوں نے کہا کہ صرف مذاکرات کے آغاز سے امن قائم نہیں ہوتا بلکہ مذاکرات کے لیے مضبوط سیاسی اور عسکری حیثیت بھی ضروری ہوتی ہے۔ اگر کوئی ملک کمزور پوزیشن میں مذاکرات کرتا ہے تو اسے اپنے قومی مفادات پر سمجھوتہ کرنا پڑ سکتا ہے۔

عباس عراقچی کے مطابق ریاستی قیادت کی بنیادی ذمہ داری عوام کی جان و مال کا تحفظ اور ملک کے مستقبل کا تحفظ ہے۔ اسی لیے جنگ یا امن سے متعلق ہر فیصلہ مکمل معلومات، زمینی حقائق اور قومی مفادات کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی تنازع کے دوران سیاسی قیادت کو مسلسل یہ جائزہ لینا چاہیے کہ جنگ جاری رکھنے سے حاصل ہونے والے فوائد اس کی انسانی، معاشی اور سیاسی قیمت سے زیادہ ہیں یا نہیں۔ اگر حالات تبدیل ہوں تو حکمت عملی میں بھی تبدیلی لانا دانشمندانہ فیصلہ ہوتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کو مختلف شعبوں میں نقصانات کا سامنا ضرور کرنا پڑا، تاہم اس کے باوجود ایران نے اپنی ریاستی صلاحیت، دفاعی طاقت اور قومی اداروں کی مضبوطی کا مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر بھی ایران ایک مؤثر طاقت کے طور پر اپنی موجودگی منوانے میں کامیاب رہا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کی خارجہ پالیسی قومی خودمختاری، علاقائی استحکام اور سفارتی توازن پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق ایران ایسے کسی بھی حل کی حمایت کرتا ہے جو ملکی مفادات، عوامی سلامتی اور خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عباس عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاست، سلامتی کے مسائل اور سفارتی سرگرمیاں عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عسکری طاقت اور سفارتی عمل ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتے ہیں، تاہم کسی بھی تنازع کا دیرپا حل بالآخر سیاسی مذاکرات ہی ہوتے ہیں۔

ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں بہتری یا مزید کشیدگی کا انحصار آنے والے سفارتی اقدامات، علاقائی حالات اور عالمی طاقتوں کے کردار پر ہوگا۔

عباس عراقچی کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایران اپنی حکمت عملی میں عسکری تیاری اور سفارتی رابطوں دونوں کو اہمیت دیتا ہے، جبکہ حتمی فیصلوں میں قومی مفادات اور زمینی حقائق کو ترجیح دی جاتی ہے۔

READ MORE FAQS

عباس عراقچی نے امریکا سے جنگ کے بارے میں کیا کہا؟

انہوں نے کہا کہ جنگ اس وقت ختم ہوگی جب ایران میدان جنگ میں واضح برتری حاصل کرے گا یا مؤثر مذاکرات کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہوگا۔

2. عباس عراقچی کے مطابق مذاکرات کب مؤثر ہوتے ہیں؟

ان کے مطابق مذاکرات اسی وقت کامیاب ہوتے ہیں جب فوجی محاذ پر اسٹریٹجک کامیابیاں حاصل ہو چکی ہوں۔

3. ایران نے حالیہ جنگ کے بارے میں کیا مؤقف اختیار کیا؟

ایران کا کہنا ہے کہ بعض نقصانات کے باوجود اس نے اپنی دفاعی صلاحیت، ریاستی استحکام اور قومی نظام کی مضبوطی کا مظاہرہ کیا۔

متعلقہ خبریں