حوثیوں کا سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان، ابہا ایئرپورٹ پر حملے کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی، پاکستان نے سعودی عرب پر حملوں پر شدید تشویش کا اظہار
صنعاء/ریاض: یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے خلاف فوری طور پر بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یمن کی بندرگاہوں اور صنعاء انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا، جبکہ پاکستان نے سعودی عرب پر حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اس کے لیے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتی ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ ساری نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کے خلاف سمندری ناکہ بندی کا فوری نفاذ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن کے عوام پر مسلط محاصرہ ناقابل برداشت ہو چکا ہے اور انہیں اپنی سرزمین کے دفاع اور جارحیت کا جواب دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعاء انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی مسلسل ناکہ بندی اور حملے ناقابل قبول ہیں، اس لیے اب ناکہ بندی کا جواب ناکہ بندی سے دیا جائے گا اور ہر قسم کی عسکری کارروائی کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔
حوثیوں نے گزشتہ ہفتے صنعاء ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں کا الزام سعودی عرب پر عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی میں سعودی عرب کے جنوبی شہر ابہا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
حوثی قیادت نے سعودی فضائی حدود استعمال کرنے والی تمام بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان کے انتباہ کو سنجیدگی سے لیں، کیونکہ مستقبل میں مزید کارروائیاں بھی کی جا سکتی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت کی جانب سے صنعا ایئرپورٹ پر کیے گئے حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
دوسری جانب پاکستان نے سعودی عرب پر حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک پاکستانی عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن ہے اور سعودی عرب پر کسی بھی حملے کو پاکستان اپنے خلاف حملہ تصور کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اس سے قبل بھی رواں سال سعودی عرب کے خلاف ہونے والی کارروائیوں پر اپنی تشویش کا اظہار کر چکا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
ادھر خلیج تعاون کونسل (GCC) نے سعودی عرب کے جنوبی علاقے پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
جی سی سی کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے اپنے بیان میں کہا کہ حوثیوں کی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین اور انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہری آبادی، ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافہ مشرق وسطیٰ میں پہلے سے جاری غیر یقینی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، جبکہ بحری ناکہ بندی کے اعلان سے بحیرہ احمر اور خلیجی خطے میں عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
🚨 Breaking | The Yemeni Armed Forces:
We announce, effective immediately, a ban on maritime navigation for the Saudi enemy under the equation: "Blockade for Blockade."
The maritime ban takes effect immediately.
The Saudi enemy's blockade on Yemen has continued for nearly 12… pic.twitter.com/xMolHNjses
— Global Insight Journal (@GlobalIJournal) July 20, 2026
READ MORE FAQS”
Q1: حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف کیا اعلان کیا؟
A: حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف فوری بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
Q2: حوثیوں نے کس سعودی مقام کو نشانہ بنایا؟
A: حوثیوں نے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر میزائل اور ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
Q3: پاکستان کا اس معاملے پر کیا مؤقف ہے؟
A: پاکستان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اس کی ریڈ لائن ہے اور اس پر کسی بھی حملے کو پاکستان اپنے خلاف حملہ تصور کرے گا۔
Q4: جی سی سی نے کیا ردعمل دیا؟
A: خلیج تعاون کونسل (GCC) نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے حوثیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔






