ایران کے امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملے، اردن اور بحرین میں کارروائی کا دعویٰ

ایران کے امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملوں کی نمائندہ تصویر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایران کا اردن اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملوں کا دعویٰ

ایران کے امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملے سے متعلق ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی حالیہ فوجی کارروائیوں کے جواب میں اردن اور بحرین میں واقع امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اردن کے شہر ازرق میں واقع مووفق السلطي ایئر بیس پر صبح کے وقت ڈرون حملہ کیا گیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ حملے میں امریکی فوج کی رہائشی اور فلاحی عمارتوں کے علاوہ سازوسامان کے گوداموں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

بیان کے مطابق بعد ازاں بحرین میں واقع شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر بھی مبینہ طور پر آرش خودکش ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا گیا، جس میں امریکی فوج کے آلات رکھنے والے گوداموں اور طیاروں کی دیکھ بھال کے لیے استعمال ہونے والے ہینگرز کو ہدف بنایا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران نے ان کارروائیوں کو امریکا کے خلاف اپنی جوابی کارروائی کا حصہ قرار دیا ہے۔

تاہم خبر لکھے جانے تک امریکا، اردن یا بحرین کی جانب سے ان حملوں یا ان سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ان دعوؤں کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، جس کے اثرات مشرق وسطیٰ کی سلامتی، علاقائی استحکام اور خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

READ MORE FAQS

ایران نے کن ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا؟

ایرانی حکام نے اردن اور بحرین میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

ایران کے مطابق کون سے فوجی اڈے نشانہ بنے؟

بیان کے مطابق اردن کا مووفق السلطي ایئر بیس اور بحرین کا شیخ عیسیٰ ایئر بیس نشانہ بنائے گئے۔

حملوں میں کن مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا؟

ایران کے مطابق رہائشی و فلاحی عمارتیں، فوجی سازوسامان کے گودام اور طیاروں کی دیکھ بھال کے ہینگرز ہدف بنائے گئے۔

کیا امریکا یا متعلقہ ممالک نے حملوں کی تصدیق کی ہے؟

نہیں، خبر لکھے جانے تک امریکا، اردن اور بحرین کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

متعلقہ خبریں