سعودی جہاز پر حوثی حملہ، بحیرہ احمر میں حملے کی سعودی عرب نے تصدیق کردی

سعودی جہاز پر حوثی حملہ بحیرہ احمر میں سعودی کمپنی کا جہاز
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بحیرہ احمر میں سعودی کمپنی کے جہاز پر حملہ، سعودی عرب نے تصدیق کردی

سعودی جہاز پر حوثی حملہ کی سعودی عرب نے باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق بحیرہ احمر میں ایک سعودی کمپنی کی ملکیت جہاز کو نشانہ بنایا گیا، تاہم حملے کے باوجود جہاز پر موجود تمام عملہ محفوظ رہا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے (SPA) کے مطابق ایک سرکاری ذریعے نے بتایا کہ "اینسیلیا” نامی جہاز بحیرہ احمر سے گزر رہا تھا جب اسے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

سرکاری بیان کے مطابق حملے کے نتیجے میں جہاز کے اگلے حصے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم عملے نے بروقت صورتحال پر قابو پایا اور تمام افراد محفوظ رہے۔

سعودی حکام نے حملے کی نوعیت یا استعمال ہونے والے ہتھیاروں سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بحیرہ احمر میں سکیورٹی صورتحال مسلسل کشیدہ ہے۔

اس سے قبل یمن کی حوثی تحریک انصاراللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے اس حملے کی تصدیق کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں خام تیل، تجارتی سامان اور بین الاقوامی کارگو کی ترسیل ہوتی ہے۔

دفاعی اور بحری امور کے ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے حملے عالمی جہاز رانی، توانائی کی سپلائی چین اور بین الاقوامی منڈیوں پر فوری اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو انشورنس اخراجات، شپنگ کرایوں اور عالمی تجارت پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی جہاز پر حملے کی سرکاری تصدیق اس بات کا اشارہ ہے کہ بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث خطے میں بحری سلامتی مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

READ MORE FAQS

سعودی جہاز پر حملہ کہاں ہوا؟

بحیرہ احمر میں سفر کے دوران سعودی کمپنی کے جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔

کیا حملے میں کوئی جانی نقصان ہوا؟

نہیں، سعودی حکام کے مطابق تمام عملہ محفوظ رہا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

حملے کی ذمہ داری کس نے قبول کی؟

یمن کی حوثی تحریک انصاراللہ نے سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

بحیرہ احمر کیوں اہم ہے؟

بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے اہم ترین سمندری راستوں میں شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں