رئیس الاخبار خبر پر ایکشن: جعلی میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ پمز اسکینڈل میں ایف آئی اے کا ٹریپ ریڈ، 3 مزید گرفتاریاں

پمز اسپتال اسلام آباد میں ایف آئی اے کی جعلی میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ اسکینڈل پر ٹریپ ریڈ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

رئیس الاخبار خبر پر ایکشن: جعلی میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ(MLC) پمز اسکینڈل میں FIA ٹریپ ریڈ، 3 مزید گرفتاریاں، LDC عثمان 50 ہزار رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار، MLO ڈاکٹر شازیہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل روانہ، دو ملزمان کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ

اسلام آباد (شاہنواز خان): فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد زون نے مصدقہ اطلاع پر مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد عدالتی مجسٹریٹ کی نگرانی میں پمز ہسپتال اسلام آباد میں ٹریپ ریڈ کیا، جس کے نتیجے میں جعلی میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ (MLC) گینگ بے نقاب ہو گیا اور تین ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔

FIA کا ٹریپ ریڈ، اہلکار بطور شکایت کنندہ پیش

ایف آئی اے کے مطابق کارروائی کے دوران ادارے کے ایک اہلکار کو بطور مضروب (شکایت کنندہ) پیش کیا گیا۔ جعلی میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے رنگی ہوئی کرنسی بطور ایڈوانس فراہم کی گئی، جس کے بعد ملزمان کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔

وزارتِ اطلاعات میں نئی تقرریوں کے بعد ریئسہ عادل
وفاقی وزارتِ اطلاعات میں ریئسہ عادل، مبشر حسن اور محمد شہزاد کو نئی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔

کارروائی کے دوران محمد عثمان، جو میڈیکو لیگل آفس میں لوئر ڈویژن کلرک (LDC) کے فرائض انجام دے رہا تھا، کو 50 ہزار روپے رشوت وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔

اس کی نشاندہی پر پمز ہسپتال کی میڈیکو لیگل آفیسر (MLO) ڈاکٹر شازیہ اور وارڈ بوائے رمیز اختر کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

جعلی MLC کے ذریعے جھوٹے مقدمات درج کرانے کا انکشاف

ایف آئی اے کی ابتدائی تحقیقات میں یہ سنگین انکشاف سامنے آیا کہ ملزمان رشوت کے عوض جعلی میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹس جاری کرتے تھے، جن کی بنیاد پر اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں جھوٹے مقدمات درج کروائے جاتے تھے۔

تحقیقات کے مطابق جہاں حقیقی زخم موجود نہ ہوتے، وہاں جسم پر مصنوعی سطحی چیرا لگا کر ٹانکے لگائے جاتے اور پھر اس بنیاد پر جعلی MLC تیار کی جاتی تھی۔

یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ جعلی میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ کے ذریعے شہریوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کروانے کا منظم نیٹ ورک کام کر رہا تھا۔

پرانا جعلی ریکارڈ، موبائل چیٹس اور بینکنگ ٹرانزیکشنز برآمد

ایف آئی اے نے موقع سے پرانے جعلی میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ ریکارڈ بھی قبضے میں لے لیے ہیں۔

مزید برآں ملزمان کے موبائل فونز کی فرانزک جانچ کے دوران مبینہ طور پر جرم میں ملوث ہونے کی نشاندہی کرنے والی چیٹس، رابطے اور بینکنگ ٹرانزیکشنز بھی برآمد ہوئی ہیں۔

تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع

ذرائع کے مطابق دورانِ تفتیش ڈاکٹر شازیہ نے پولی کلینک میں تعینات ایک ڈاکٹر پر بھی مزید الزامات عائد کیے ہیں۔

رئیس الاخبار کی انویسٹی گیشن ٹیم اس پہلو پر آزادانہ تحقیقات کر رہی ہے اور آنے والے دنوں میں اس سے متعلق مزید اہم انکشافات سامنے لائے جائیں گے۔

راولپنڈی ٹیکسی ڈرائیور اور غیرملکی خاتون میں جھگڑے کی نمائندہ تصویر
راولپنڈی میں مبینہ کرایہ تنازع پر غیرملکی خاتون اور ٹیکسی ڈرائیور کے درمیان جھگڑے کے دوران شہری بیچ بچاؤ کراتے ہوئے۔

ملزمان کے خلاف مقدمہ درج

ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف ایف آئی آر نمبر 38/2026 مورخہ 21 جولائی 2026 درج کر لی ہے۔

مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 420، 468، 471، 109 اور پریوینشن آف کرپشن ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت درج کیا گیا ہے۔

عدالت کا فیصلہ

ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں:محمد عثمان (LDC) کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیااور رمیز اختر کا بھی 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا جبکہ ڈاکٹر شازیہ (MLO) کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

ایف آئی اے کے مطابق مزید تفتیش جاری ہے اور گینگ سے وابستہ دیگر افراد کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

رئیس الاخبار کی خبر پر کارروائی
رئیس الاخبار کی انویسٹی گیشن کے بعد اہم پیش رفت

رئیس الاخبار کی گزشتہ دو روز سے شائع ہونے والی تحقیقی خبر کے بعد یہ کارروائی عمل میں آئی۔

رئیس الاخبار کی انویسٹی گیشن ٹیم نے سب سے پہلے جعلی MLC اسکینڈل کو بے نقاب کیا اور متعلقہ میڈیکو لیگل آفیسر کے مبینہ کردار کو سامنے لایا۔ اس خبر کے بعد ایف آئی اے حرکت میں آئی اور مذکورہ ٹریپ آپریشن انجام دیا گیا۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: جعلی MLC اسکینڈل میں کتنے افراد گرفتار ہوئے؟
جواب: ایف آئی اے کی ٹریپ ریڈ کے دوران تین ملزمان گرفتار کیے گئے، جن میں LDC محمد عثمان، میڈیکو لیگل آفیسر ڈاکٹر شازیہ اور وارڈ بوائے رمیز اختر شامل ہیں۔

سوال 2: ایف آئی اے نے کارروائی کہاں کی؟
جواب: کارروائی اسلام آباد کے پمز (PIMS) اسپتال میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے عدالتی نگرانی میں کی۔

سوال 3: ملزمان پر کیا الزامات ہیں؟
جواب: ملزمان پر رشوت کے عوض جعلی میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹس جاری کرنے، جھوٹے مقدمات درج کرانے، جعلی زخم بنا کر MLC تیار کرنے اور کرپشن کے الزامات ہیں۔

سوال 4: ڈاکٹر شازیہ کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟
جواب: عدالت نے میڈیکو لیگل آفیسر ڈاکٹر شازیہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جبکہ دیگر دو ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا۔

سوال 5: رئیس الاخبار کا اس کیس میں کیا کردار تھا؟
جواب: رئیس الاخبار کی انویسٹی گیشن ٹیم نے سب سے پہلے اس مبینہ اسکینڈل کو بے نقاب کیا، جس کے بعد ایف آئی اے نے ٹریپ ریڈ کرتے ہوئے کارروائی کی اور ملزمان کو گرفتار کیا۔

متعلقہ خبریں