صدر مملکت کی بلوچستان کے وزراء سے ملاقات، ترقیاتی منصوبوں اور امن و امان بہتر بنانے کی ہدایت
صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات میں صوبے کی مجموعی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں، امن و امان اور عوامی فلاح سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران صدر مملکت نے بلوچستان کی ترقی کو قومی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ترقیاتی منصوبوں پر تیز رفتاری سے کام کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کی پائیدار ترقی ملک کی مجموعی معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عوام کو صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ صوبے کے عوام معیارِ زندگی میں بہتری محسوس کر سکیں۔
انہوں نے جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ تمام منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو ان کے ثمرات جلد از جلد مل سکیں۔
صدر مملکت نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن کے بغیر ترقی کا سفر مکمل نہیں ہوسکتا، اس لیے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی رابطے اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ، سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے اور نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ صوبے کی اقتصادی ترقی کو نئی رفتار مل سکے۔
ملاقات میں بلوچستان کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزراء نے بھی اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی، جاری منصوبوں اور مستقبل کی ترجیحات سے متعلق بریفنگ دی۔
اجلاس میں صوبائی وزیر آبپاشی صادق عمرانی، وزیر منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیر صحت میر بخت کاکڑ، وزیر لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیر صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیر محنت غلام رسول عمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک ہوئے۔
شرکا نے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، صحت، تعلیم، زراعت، صنعت اور روزگار کے مواقع میں اضافے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
صدر مملکت نے اس موقع پر کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان مؤثر تعاون ہی بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوامی خوشحالی اور امن و استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے۔
READ MORE FAQS
- صدر مملکت نے بلوچستان کے وزراء سے ملاقات میں کس معاملے پر زور دیا؟
انہوں نے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور امن و امان کی بہتری پر زور دیا۔
- ملاقات میں کون کون سے وزراء شریک تھے؟
ملاقات میں وزیر آبپاشی، وزیر منصوبہ بندی و ترقی، وزیر صحت، وزیر لائیو اسٹاک، وزیر صنعت و تجارت، وزیر محنت اور دیگر اہم شخصیات شریک ہوئیں۔
- صدر مملکت نے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے کیا ہدایات دیں؟
انہوں نے متعلقہ اداروں کو منصوبے بروقت مکمل کرنے اور عوام کو جلد از جلد ان کے ثمرات پہنچانے کی ہدایت کی۔
- ملاقات میں امن و امان سے متعلق کیا بات کی گئی؟
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن، ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے تمام اداروں کو مربوط انداز میں کام کرنا چاہیے۔








