پاکستانی ڈرامے اے آئی سے لکھے جا رہے ہیں، سید محمد احمد کا اہم انکشاف

پاکستانی ڈرامے اے آئی سے لکھے جا رہے ہیں
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستانی ڈرامے اے آئی سے لکھے جا رہے ہیں، سید محمد احمد نے اسکرپٹ رائٹرز سے متعلق حیران کن دعویٰ کر دیا

پاکستانی ڈرامے اے آئی سے لکھے جا رہے ہیں، یہ دعویٰ پاکستان شوبز انڈسٹری کے سینئر اداکار، مصنف اور اسکرپٹ رائٹر سید محمد احمد نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ گفتگو میں کیا۔ ان کے مطابق پاکستان میں کئی اسکرپٹ رائٹرز مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) سے مدد لے کر ڈرامے تحریر کر رہے ہیں، جبکہ پروڈیوسرز بھی اکثر کہانیوں میں اپنی مرضی سے تبدیلیاں کرتے ہیں جس کے باعث اصل تخلیقی معیار متاثر ہوتا ہے۔

سید محمد احمد کا شمار پاکستان کے معروف مصنفین اور اداکاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کئی کامیاب ڈراموں میں اداکاری اور تحریر کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ حالیہ گفتگو میں انہوں نے ڈرامہ انڈسٹری کے اندرونی نظام، اسکرپٹ رائٹنگ کے چیلنجز اور اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تفصیل سے اظہار خیال کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بے شمار باصلاحیت لکھاری موجود ہیں، مگر اکثر اوقات انہیں اپنی تخلیقی آزادی حاصل نہیں ہوتی۔ پروڈیوسرز ریٹنگ، کاروباری مفادات اور ناظرین کی فوری توجہ حاصل کرنے کے لیے کہانیوں میں تبدیلیاں کر دیتے ہیں، جس سے مصنف کی اصل سوچ متاثر ہو جاتی ہے۔

سید محمد احمد نے ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے ایک ڈرامے کی 17 اقساط مکمل لکھی جا چکی تھیں، لیکن بعد میں انہیں ہدایت دی گئی کہ 11ویں قسط کے بعد کا تمام مواد تبدیل کیا جائے۔ ان کے مطابق ایسے فیصلے مصنف کی تخلیقی محنت پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسکرپٹ رائٹرز کو اکثر اپنی تحریروں پر مکمل اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے انہوں نے بھی ماضی میں پروڈیوسرز کو اسکرپٹ میں تبدیلی کی اجازت دی، کیونکہ بعض اوقات طویل بحث کے باوجود بھی تخلیقی نقطۂ نظر پر اتفاق نہیں ہو پاتا۔

مومنہ اقبال ہراسگی کیس میں عدالتی کارروائی اور ثاقب چدھڑ
مومنہ اقبال ہراسگی کیس میں عدالت نے حتمی دلائل طلب کرتے ہوئے عبوری ضمانت میں توسیع کر دی۔

گفتگو کے دوران سید محمد احمد نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق کئی نئے لکھاری اے آئی ٹولز سے مدد لے کر مکالمے اور کہانی تیار کرتے ہیں، لیکن ایسے اسکرپٹس میں مقامی زبان، ثقافت، روزمرہ اندازِ گفتگو اور معاشرتی حساسیت کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ڈراموں کی اصل طاقت ان کے کردار، خاندانی روایات، مقامی محاوروں اور ثقافتی رنگ میں ہوتی ہے۔ اگر اسکرپٹ مکمل طور پر مصنوعی ذہانت پر انحصار کرتے ہوئے تیار کیا جائے تو وہ قدرتی احساس اور مقامی شناخت سے دور ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک معیاری اور مضبوط ڈرامہ لکھنے میں تقریباً 10 سے 11 ماہ لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ایک لکھاری کے لیے بیک وقت کئی اعلیٰ معیار کے ڈرامے تحریر کرنا عملی طور پر انتہائی مشکل ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی مختصر وقت میں متعدد ڈرامے لکھ رہا ہو تو اس میں جدید ٹیکنالوجی یا اضافی معاون ذرائع استعمال ہونے کا امکان موجود ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت تحریر کے ابتدائی مراحل، تحقیق، خیالات کی ترتیب اور زبان کی بہتری میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، تاہم مکمل تخلیقی عمل اب بھی انسانی تجربے، جذبات اور مشاہدے کا محتاج ہے۔ اسی لیے دنیا بھر میں تخلیقی شعبوں میں یہ بحث جاری ہے کہ اے آئی کو معاون ٹیکنالوجی کے طور پر استعمال کیا جائے یا مکمل متبادل کے طور پر۔

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری نے گزشتہ دو دہائیوں میں عالمی سطح پر اپنی منفرد شناخت بنائی ہے۔ پاکستان کے ڈرامے حقیقت پسندانہ کہانیوں، مضبوط کرداروں اور معاشرتی مسائل کی مؤثر عکاسی کی وجہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں دیکھے جاتے ہیں۔ اس کامیابی میں مصنفین کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

سید محمد احمد کے بیان نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت اور انسانی تخلیق کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ اگرچہ اے آئی بہت سے تکنیکی کام آسان بنا سکتی ہے، لیکن جذبات، مقامی ثقافت، انسانی تجربات اور معاشرتی باریکیوں کو مکمل طور پر نقل کرنا اب بھی ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے۔

دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے تخلیقی صنعتوں کے لیے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ کئی مصنفین اے آئی کو صرف تحقیق، خاکہ سازی اور ابتدائی مسودہ تیار کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ حتمی اسکرپٹ اپنی تخلیقی سوچ، تجربے اور زبان کے مطابق خود ترتیب دیتے ہیں۔

سید محمد احمد کے حالیہ ریمارکس پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں اسکرپٹ رائٹنگ، تخلیقی آزادی اور مصنوعی ذہانت کے کردار پر ایک نئی بحث کا آغاز کر سکتے ہیں۔ آنے والے برسوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ صنعت کس حد تک جدید ٹیکنالوجی کو اپناتی ہے اور ساتھ ہی انسانی تخلیقی صلاحیت کو کیسے محفوظ رکھتی ہے۔

واضح رہے کہ یہ خیالات سید محمد احمد نے ایک پوڈکاسٹ گفتگو کے دوران بطور اپنی رائے اور مشاہدہ بیان کیے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے استعمال کی وسعت یا تناسب کے حوالے سے انہوں نے کوئی باضابطہ اعداد و شمار یا تحقیقی رپورٹ پیش نہیں کی۔