آزاد کشمیر حکومت کا دعویٰ، احتجاج میں فتنہ الخوارج کے دہشتگرد شامل، فیصلہ کن کارروائی کا اعلان
مظفر آباد: آزاد جموں و کشمیر حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ جاری احتجاج میں شدت پسند عناصر اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشتگرد شامل ہو چکے ہیں، جن کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
سیکریٹری اطلاعات آزاد جموں و کشمیر محمد راشد حنیف نے مظفر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر احتجاج کرنے والے افراد میں سے بعض اب مسلح شدت پسندوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں، اس لیے ریاست امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے مطابق شرپسند عناصر عام شہریوں کو گمراہ کر کے احتجاج میں شریک کرتے ہیں، جبکہ خواتین اور بچوں کو مبینہ طور پر ہیومن شیلڈ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے عناصر سے دور رہیں اور کسی بھی غیر مصدقہ معلومات پر یقین نہ کریں۔
محمد راشد حنیف کا کہنا تھا کہ بعض افراد سوشل میڈیا پر گمراہ کن ویڈیوز اور معلومات پھیلا کر عوام کو اشتعال دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق متعلقہ اداروں کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ احتجاج میں شدت پسند اور دہشتگرد عناصر بھی شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس صورتحال کو محض ایک احتجاج نہیں بلکہ امن و امان کے لیے سنگین چیلنج سمجھتی ہے، اس لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی آئینی ذمہ داری کے تحت کارروائی کریں گے۔
سیکریٹری اطلاعات نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کریں، افواہوں سے گریز کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے احتجاج میں شدت پسندوں اور دہشتگردوں کی شمولیت کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ خبر میں احتجاجی منتظمین یا دیگر فریقین کا مؤقف شامل نہیں ہے۔
سیکرٹری اطلاعات آزاد کشمیر محمد راشد کی پریس کانفرنس pic.twitter.com/CkqxPmU3nh
— Siddique Jan SMT (@SdqJaanSMT) July 28, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: آزاد کشمیر حکومت نے احتجاج کے بارے میں کیا دعویٰ کیا؟
جواب: حکومت کا دعویٰ ہے کہ جاری احتجاج میں شدت پسند عناصر اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشتگرد شامل ہو چکے ہیں۔
سوال 2: یہ بیان کس نے دیا؟
جواب: یہ بیان آزاد جموں و کشمیر کے سیکریٹری اطلاعات محمد راشد حنیف نے مظفر آباد میں پریس کانفرنس کے دوران دیا۔
سوال 3: حکومت نے عوام سے کیا اپیل کی؟
جواب: حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ شرپسند عناصر سے دور رہیں، گمراہ کن سوشل میڈیا مواد پر یقین نہ کریں اور صرف مستند معلومات پر اعتماد کریں۔
سوال 4: حکومت کے مطابق احتجاج میں شامل افراد کے خلاف کیا کارروائی ہوگی؟
جواب: حکومت کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون کے مطابق فیصلہ کن کارروائی کریں گے تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔
سوال 5: کیا احتجاجی منتظمین کا مؤقف بھی سامنے آیا ہے؟
جواب: اس خبر میں حکومت کا مؤقف بیان کیا گیا ہے۔ احتجاجی منتظمین یا دیگر متعلقہ فریقین کا ردعمل شامل نہیں ہے۔
پاکستان میں سونے کی قیمت کا 79 سالہ سفر: 1947 میں 57 روپے فی تولہ سے 2026 میں 5 لاکھ 63 ہزار روپے تک






