پاک بحریہ ریسکیو آپریشن: پی این ایس تیمور نے 19 ماہی گیروں کو بحفاظت بچا لیا

پاک بحریہ ریسکیو آپریشن کے دوران پی این ایس تیمور نے 19 ماہی گیروں کو بحفاظت بچایا
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاک بحریہ کا کامیاب ریسکیو آپریشن، پی این ایس تیمور نے 19 ماہی گیروں کو ساحل تک پہنچا دیا

پاک بحریہ ریسکیو آپریشن ایک بار پھر کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے پاک بحریہ کے جنگی جہاز پی این ایس تیمور نے شمالی بحیرۂ عرب میں انجن خراب ہونے کے باعث سمندر میں پھنس جانے والی ماہی گیروں کی کشتی کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔ اس کامیاب کارروائی کے دوران کشتی میں سوار تمام 19 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا، جن میں 11 پاکستانی اور 8 ایرانی شہری شامل تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کامیاب آپریشن پر پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سمندر میں انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت کارروائی قابلِ ستائش ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق کشتی گوادر سے تقریباً 120 ناٹیکل میل جنوب میں انجن کی خرابی کے باعث سمندر میں پھنس گئی تھی، جس کے بعد صورتحال کی اطلاع جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈی نیشن سینٹر (JMICC) کو دی گئی۔ ادارے نے فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو مشن کے لیے پاک بحریہ سے رابطہ کیا۔

اطلاع ملتے ہی پاک بحریہ کا جنگی جہاز پی این ایس تیمور متاثرہ مقام کی جانب روانہ ہوا اور مختصر وقت میں کشتی تک پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

ریسکیو آپریشن کے دوران بحریہ کے اہلکاروں نے کشتی میں موجود تمام افراد کو خوراک، پینے کا صاف پانی اور طبی امداد فراہم کی۔ بعد ازاں کشتی کو تکنیکی مدد فراہم کرتے ہوئے بحفاظت ساحل تک منتقل کیا گیا تاکہ تمام افراد محفوظ طریقے سے اپنے گھروں کو واپس جا سکیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاک بحریہ نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف ملکی سمندری حدود کی حفاظت کرتی ہے بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے بھی ہر وقت تیار رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن میں شامل افسران اور جوانوں نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کیں، جو پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔

وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاک بحریہ کی انسانی ہمدردی پر مبنی خدمات پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی اور ایرانی شہریوں کو بلا امتیاز محفوظ ریسکیو کرنا دونوں ممالک کے درمیان انسانی تعاون کی بہترین مثال ہے۔

بحری ماہرین کے مطابق شمالی بحیرۂ عرب میں موسم کی تبدیلی، اونچی لہروں اور فنی خرابیوں کے باعث ماہی گیروں کو اکثر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایسے میں سرچ اینڈ ریسکیو صلاحیتوں کا مؤثر ہونا انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

پاک بحریہ ماضی میں بھی متعدد کامیاب سرچ اینڈ ریسکیو مشنز انجام دے چکی ہے، جن میں ملکی اور غیر ملکی شہریوں کو سمندر میں پیش آنے والے مختلف حادثات سے محفوظ نکالا گیا۔ جدید بحری جہاز، تربیت یافتہ عملہ اور بروقت ردعمل پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظہر سمجھے جاتے ہیں۔

یہ کامیاب ریسکیو آپریشن نہ صرف انسانی جانوں کے تحفظ کی اہم مثال ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ پاکستان کی بحری افواج کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ حکومت نے بھی اس کامیاب کارروائی کو قومی اداروں کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور ذمہ دارانہ خدمات کا روشن نمونہ قرار دیا ہے۔

READ MORE FAQS
  1. پاک بحریہ نے کتنے ماہی گیروں کو ریسکیو کیا؟

پاک بحریہ نے کامیاب ریسکیو آپریشن کے دوران 19 ماہی گیروں کو بحفاظت بچایا۔

  1. ریسکیو آپریشن کس جہاز نے کیا؟

یہ آپریشن پاک بحریہ کے جنگی جہاز پی این ایس تیمور (PNS Taimur) نے انجام دیا۔

  1. ماہی گیر کہاں پھنس گئے تھے؟

کشتی گوادر سے تقریباً 120 ناٹیکل میل جنوب میں شمالی بحیرۂ عرب میں انجن خراب ہونے کے باعث پھنس گئی تھی۔

  1. کشتی میں کتنے پاکستانی اور ایرانی شہری سوار تھے؟

کشتی میں 11 پاکستانی اور 8 ایرانی شہری موجود تھے۔