رانا ثنااللہ نے آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات مسترد کر دیے، کہا شکست کو دھاندلی کا نام نہ دیں

رانا ثنااللہ آزاد کشمیر الیکشن پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

رانا ثنااللہ نے آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات مسترد کر دیے، کہا شکست کو دھاندلی کا نام نہ دیں،

اسلام آباد: مشیر وزیراعظم برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی نتائج سب کے سامنے آ رہے ہیں، سیاسی جماعتیں شکست کو دھاندلی کا نام دینے کے بجائے عوامی فیصلے کو قبول کریں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ صبح سے ہی بعض سیاسی رہنماؤں نے دھاندلی کے الزامات لگانا شروع کر دیے تھے، حالانکہ ابھی نتائج مکمل طور پر سامنے بھی نہیں آئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ "آپ کو آزاد کشمیر الیکشن کا رزلٹ معلوم ہے، شکست کو دھاندلی کا نام نہ دیں۔”

لطیف اکبر پر حملے کے دعوؤں پر ردعمل

رانا ثنااللہ نے قائم مقام صدر آزاد کشمیر لطیف اکبر پر مبینہ حملے کے حوالے سے کہا کہ وہ اپنے پولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈالنے گئے تھے جہاں ایک خاندان کے ساتھ معمولی تکرار ہوئی، لیکن اس واقعے کو "قاتلانہ حملہ” قرار دینا درست نہیں۔

انہوں نے ایک اور واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشتاق شاہ نامی شخص کی موت کو بھی قتل قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان کا انتقال دل کا دورہ یا دھکے لگنے کے باعث ہوا۔

آزاد کشمیر الیکشن کا دوسرے مرحلا
آزاد کشمیر انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں پر پولنگ جاری ہے۔

مشیر وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت تھی کہ آزاد کشمیر الیکشن مکمل طور پر پُرامن اور تشدد سے پاک ہوں، اور حکومت نے اس مقصد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے۔

بلاول بھٹو کو تنقید کا نشانہ

رانا ثنااللہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے ساتھیوں سے درست معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کو غلط معلومات فراہم کر کے ایسے بیانات دلوائے جا رہے ہیں جو زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے ارکان اسمبلی کو صرف انتخابی کیمپوں تک محدود رہنے کی ہدایت دی تھی اور کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

"آج کا انتخابی مرحلہ پُرامن رہا”

رانا ثنااللہ نے کہا کہ مظفرآباد شہر میں کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس کی فضا ضرور رہی، تاہم مجموعی طور پر عوام نے آزادانہ طور پر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج کا انتخابی مرحلہ تشدد سے پاک رہا اور اگر کسی مقام پر فائرنگ ہوئی بھی تو وہ مخالف جماعت کے گن مینوں کی جانب سے کی گئی۔

غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج جاری

دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے بعد مختلف حلقوں کے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

بلاول بھٹو کو جوائنٹ کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کا جواب موصول
بلاول بھٹو نے جوائنٹ کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے جواب موصول ہونے کی تصدیق کی۔

آزاد کشمیر الیکشن میں ابتدائی نتائج کے مطابق مختلف نشستوں پر مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب یا برتری حاصل کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

غیرسرکاری نتائج کے مطابق:

  • ایل اے 45 ویلی سے پیپلز پارٹی کے عبدالماجد خان کامیاب قرار پائے۔
  • ایل اے 43 سے مسلم لیگ (ن) کے محمد یاسین کامیاب ہوئے۔
  • ایل اے 44 سے مسلم لیگ (ن) کے محمد احمد رضا قادری نے کامیابی حاصل کی۔
  • ایل اے 36 جموں 3 سے مسلم لیگ (ن) کے حافظ محمد احسن رضا نمایاں برتری کے ساتھ کامیاب ہوئے۔
  • ایل اے 30 مظفرآباد 4 میں مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی کامیاب قرار پائے۔

اسی طرح دیگر کئی حلقوں میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے جبکہ بعض نشستوں پر ابتدائی برتری کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

نتائج کا انتظار

واضح رہے کہ آزاد کشمیر الیکشن کے دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کے حلقوں اور مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں پر پولنگ ہوئی، جبکہ بعض حلقوں میں بارش اور دیگر انتظامی وجوہات کے باعث انتخابات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام حلقوں کے حتمی اور سرکاری نتائج مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: رانا ثنااللہ نے دھاندلی کے الزامات پر کیا کہا؟

جواب: رانا ثنااللہ نے کہا کہ انتخابات مجموعی طور پر پُرامن رہے اور سیاسی جماعتوں کو شکست کو دھاندلی کا نام دینے کے بجائے عوامی فیصلے کو تسلیم کرنا چاہیے۔

سوال 2: رانا ثنااللہ نے بلاول بھٹو سے متعلق کیا کہا؟

جواب: انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کو غلط معلومات فراہم کی جا رہی ہیں اور انہیں اپنے کارکنوں اور رہنماؤں سے درست حقائق معلوم کرنے چاہییں۔

سوال 3: آزاد کشمیر الیکشن کے غیرحتمی نتائج میں کون سی جماعتیں آگے ہیں؟

جواب: مختلف حلقوں کے غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) متعدد نشستوں پر کامیاب یا برتری حاصل کیے ہوئے ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی بعض حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔

سوال 4: کیا تمام انتخابی نتائج حتمی ہیں؟

جواب: نہیں، یہ نتائج غیرحتمی اور غیرسرکاری ہیں۔ حتمی نتائج الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے جاری کیے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں