ایرانی صدر مسعود پزشکیان: استعفیٰ نہیں دوں گا، فوجی دستوں سے مکمل رابطہ برقرار

ایرانی صدر مسعود پزشکیان فوجی دستوں سے مکمل رابطے سے متعلق بیان دیتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دوٹوک اعلان، استعفیٰ نہیں دوں گا، فوجی دستوں سے مسلسل رابطے میں ہوں

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیں گے اور موجودہ حالات میں فوجی دستوں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران اپنی قومی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی استحکام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ حکومت اور فوج کے درمیان مسلسل رابطہ برقرار ہے اور تمام قومی ادارے موجودہ صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر کی گفتگو کی مکمل ویڈیو اور تحریری متن جلد جاری کیا جائے گا، جس میں موجودہ علاقائی صورتحال، دفاعی حکمت عملی اور قومی سلامتی سے متعلق مزید تفصیلات شامل ہوں گی۔

صدر پزشکیان نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنی سرحدوں اور خودمختاری کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ کو مزید وسعت دینے کا خواہاں نہیں بلکہ خطے میں استحکام اور امن کو ترجیح دیتا ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہونے کے بیان کے بعد تہران نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس وقت امریکا کے ساتھ کسی بھی نئی بات چیت کا کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں ہوا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق صدر پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کو ایسی مضبوط اور متحد معاشرت تشکیل دینی چاہیے جہاں بیرونی قوتوں کو مداخلت یا اندرونی اختلافات پیدا کرنے کا کوئی موقع نہ مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ قومی اتحاد، داخلی استحکام اور مضبوط دفاعی صلاحیتیں ہی ایران کی سلامتی کی ضمانت ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد اور تعاون انتہائی ضروری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صدر پزشکیان کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی، سفارتی سرگرمیوں اور سکیورٹی معاملات پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔ ان کا مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران ایک طرف دفاعی تیاری برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب جنگ کے دائرہ کار کو بڑھانے سے بھی گریز کر رہا ہے۔

ایرانی قیادت کی جانب سے فوجی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے اور قومی سلامتی پر زور دینے کو موجودہ علاقائی حالات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں ایرانی حکومت کی مزید وضاحتیں اور سفارتی پیش رفت خطے کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

READ MORE FAQS

1. ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کیا اعلان کیا؟

انہوں نے کہا کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے اور فوجی دستوں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

2. کیا ایران جنگ کو مزید بڑھانا چاہتا ہے؟

صدر پزشکیان کے مطابق ایران اپنی خودمختاری کا دفاع کرے گا لیکن جنگ کو وسعت دینے کا خواہاں نہیں۔

3. ایران نے ٹرمپ کے مذاکرات والے دعوے پر کیا ردعمل دیا؟

ایران نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کسی نئی بات چیت کا باضابطہ فیصلہ نہیں ہوا۔

4. صدر پزشکیان نے قومی اتحاد کے بارے میں کیا کہا؟

انہوں نے کہا کہ قومی اتحاد اور مضبوط معاشرہ بیرونی مداخلت کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں