حزب اللہ سربراہ نعیم قاسم کا لبنان اسرائیل مذاکرات پر سخت ردعمل، ایران کی کامیابی کا بھی دعویٰ
حزب اللہ لبنان اسرائیل مذاکرات کے حوالے سے مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان متوقع مذاکرات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں "شرمندگی اور ذلت” قرار دیا ہے۔
روم میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے ممکنہ مذاکرات سے قبل اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں نعیم قاسم نے کہا کہ ایسے مذاکرات لبنان کے قومی مفادات کے خلاف ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت لبنان کے عوام کے جذبات کی نمائندگی نہیں کرتی۔
نعیم قاسم نے اپنے خطاب میں لبنانی صدر جوزف عون کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کو ملک میں اتحاد اور آئینی توازن کی علامت ہونا چاہیے تھا، مگر موجودہ طرزِ عمل سے وہ ایک جانبدار سیاسی کردار کے طور پر سامنے آئے ہیں، جس سے قومی اتحاد متاثر ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنان کی داخلی سیاست میں اس وقت اتحاد، استحکام اور قومی مفادات کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا جانا چاہیے جو داخلی تقسیم یا سیاسی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے۔
اپنے خطاب کے دوران نعیم قاسم نے ایران کے کردار کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف اپنی حکمت عملی میں کامیابی حاصل کی ہے اور اب وہ خطے میں ایک بااثر طاقت کے طور پر مزید مضبوط ہو کر سامنے آیا ہے۔
حزب اللہ سربراہ نے کہا کہ ایران کی قیادت مستقبل میں بھی اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی اور خطے میں اپنے سیاسی اور سفارتی کردار کو مزید مستحکم بنائے گی۔ ان کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسیوں نے خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کیا ہے۔
نعیم قاسم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی بعض سفارتی پیش رفت کے بعد لبنان پر اسرائیلی حملوں کی شدت میں کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان سے متعلق معاملات کو سفارتی سطح پر بھی اہمیت دی گئی، جس سے خطے کی صورتحال پر اثرات مرتب ہوئے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حزب اللہ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ لبنان، اسرائیل، ایران اور دیگر علاقائی قوتوں کے درمیان جاری کشیدگی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جبکہ مختلف ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان کسی بھی ممکنہ مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا اثر صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کی سلامتی، سیاسی استحکام اور سفارتی تعلقات پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ادھر لبنان کی سیاسی قیادت کی جانب سے اس بیان پر فوری باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم آنے والے دنوں میں مذاکراتی عمل اور علاقائی سفارت کاری کے تناظر میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ایران کا بڑھتا ہوا کردار، لبنان کی داخلی سیاست اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات آنے والے ہفتوں میں عالمی سفارتی ایجنڈے کا اہم حصہ رہنے کا امکان ہے۔
READ MORE FAQS
- نعیم قاسم نے لبنان اسرائیل مذاکرات کے بارے میں کیا کہا؟
انہوں نے مجوزہ مذاکرات کو شرمندگی اور ذلت قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔
- نعیم قاسم نے لبنانی صدر پر کیا تنقید کی؟
انہوں نے کہا کہ صدر جوزف عون کو غیرجانبدار ہونا چاہیے تھا لیکن وہ جانبدار کردار ادا کر رہے ہیں۔
- ایران کے بارے میں حزب اللہ کا مؤقف کیا ہے؟
نعیم قاسم کے مطابق ایران خطے میں ایک مضبوط اور بااثر طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
- کیا لبنان اسرائیل مذاکرات شروع ہو چکے ہیں؟
بیان کے مطابق مذاکرات سے قبل حزب اللہ نے اپنا سخت ردعمل دیا، جبکہ مذاکراتی عمل سے متعلق مزید پیش رفت متوقع ہے۔








