وزیراعظم شہباز شریف کا شامی وزیر خارجہ سے ملاقات میں اہم مؤقف

پاکستان شام تعلقات، وزیراعظم شہباز شریف کی شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی سے ملاقات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

شامی وزیر خارجہ سے ملاقات، وزیراعظم کا شام کی حمایت کا اعادہ

پاکستان شام تعلقات کے حوالے سے اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی سے ملاقات کے دوران شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

ملاقات میں وزیراعظم نے شامی وزیر خارجہ اور ان کے وفد کا خیرمقدم کیا اور صدر احمد الشرع کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ شہباز شریف نے اپنی حالیہ ملاقاتوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے پاکستان اور شام کے درمیان موجودہ سفارتی روابط کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور شام کے درمیان تاریخی اور دوستانہ تعلقات موجود ہیں جنہیں اب عملی تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک سیاسی روابط کے ساتھ دفاع، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دے سکتے ہیں۔

گولان کی پہاڑیوں پر پاکستان کا مؤقف

ملاقات کے دوران گولان کی پہاڑیوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان شام کے مؤقف کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا اور شام کی علاقائی سالمیت کے حوالے سے اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔

شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے صدر احمد الشرع کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کے لیے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے وزیراعظم کو شام کی موجودہ سیاسی صورتحال اور ملک میں جاری تعمیر نو کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔

شام کی تعمیر نو میں تعاون کی خواہش

شامی وزیر خارجہ نے پاکستان کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ شامی حکومت پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے باقاعدہ ادارہ جاتی طریقہ کار جلد وضع کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ باہمی تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے رابطوں اور مشاورت کا سلسلہ مزید بڑھایا جائے۔ شام میں جاری تعمیر نو کے عمل کے تناظر میں بھی مستقبل میں مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات موجود ہیں۔

براہ راست پروازوں کی بحالی پر زور

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور شام کے درمیان براہ راست پروازوں کی بحالی کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ براہ راست فضائی رابطوں سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط بڑھیں گے اور پاکستان سے شام جانے والے زائرین کو بھی سہولت حاصل ہوگی۔

براہ راست پروازوں کی بحالی سے کاروباری، سفارتی اور عوامی سطح پر رابطوں کو فروغ دینے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

صدر احمد الشرع کو دورہ پاکستان کی دعوت

ملاقات کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے شامی صدر احمد الشرع کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔ اس دعوت کو دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی روابط میں مزید اضافے کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان شام تعلقات کے تناظر میں یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان سیاسی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔ مستقبل میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور ادارہ جاتی روابط کے ذریعے تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، دفاع اور دیگر شعبوں میں تعاون کو عملی شکل دینے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

READ MORE FAQS

1۔ وزیراعظم شہباز شریف نے شامی وزیر خارجہ سے کیا بات کی؟

وزیراعظم نے پاکستان شام تعلقات، شام کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، گولان کی پہاڑیوں، دوطرفہ تعاون اور شام کی تعمیر نو سے متعلق امور پر گفتگو کی۔

2۔ پاکستان نے شام کے بارے میں کیا مؤقف اختیار کیا؟

وزیراعظم شہباز شریف نے شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔

3۔ کیا احمد الشرع کو پاکستان آنے کی دعوت دی گئی؟

جی ہاں، وزیراعظم شہباز شریف نے شامی صدر احمد الشرع کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی۔

4۔ پاکستان اور شام کن شعبوں میں تعاون بڑھا سکتے ہیں؟

دونوں ممالک سیاسی، دفاعی، تجارتی، سرمایہ کاری، تعلیمی اور انسانی وسائل کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں۔