پاکستانی نوجوان کوہ پیما اسماء مشتاق اسپانٹک چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران مبینہ طور پر بلند مقام کی بیماری کا شکار ہوکر جاں بحق ہوگئیں
اسماء مشتاق نے اپنے گائیڈ علی اکبر کے ہمراہ قراقرم کے سلسلے میں واقع 7 ہزار 27 میٹر بلند اسپانٹک چوٹی کامیابی سے سر کی تھی، تاہم واپسی کے دوران ان کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ جانبر نہ ہوسکیں۔
7 فروری 1992 کو پیدا ہونے والی اسماء مشتاق کو مہم جوئی، پہاڑوں اور قدرتی مناظر سے گہری محبت کے باعث کوہ پیمائی کی کمیونٹی میں خاص پہچان حاصل تھی۔ وہ حالیہ مہم کے دوران اسپانٹک چوٹی سر کرنے کے لیے روانہ ہوئی تھیں، جو پاکستان کے بلند اور دشوار گزار پہاڑی مقامات میں شمار ہوتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسماء نے اپنے گائیڈ علی اکبر کے ساتھ کامیابی سے چوٹی تک رسائی حاصل کی اور اس موقع پر ان کی صحت بھی بہتر بتائی گئی۔
چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے سفر کے دوران اسماء مشتاق کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔ اطلاعات کے مطابق انہیں مبینہ طور پر بلند مقام کی بیماری، جسے ہائی آلٹی ٹیوڈ سکنس کہا جاتا ہے، کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے گائیڈ نے فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی، تاہم طبیعت میں بہتری نہ آسکی اور وہ جانبر نہ ہوسکیں۔
اسماء مشتاق کی اچانک موت کی خبر نے کوہ پیمائی اور مہم جوئی سے وابستہ حلقوں میں افسوس کی لہر دوڑا دی ہے۔ ایک بلند اور مشکل چوٹی کامیابی سے سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران پیش آنے والا یہ افسوسناک واقعہ پہاڑی مہمات میں موجود خطرات کی ایک بار پھر یاد دہانی بھی ہے۔
اسماء مشتاق کی میت کی واپسی کے انتظامات کے لیے قراقرم کالنگ ٹریکس متعلقہ حکام سے رابطے میں ہے اور ضروری تعاون فراہم کر رہا ہے۔ میت کو واپس لانے کے لیے جاری کوششوں اور انتظامات کے بارے میں مزید معلومات متعلقہ حکام کی جانب سے سامنے آنے کی توقع ہے۔
اسماء مشتاق کی زندگی مہم جوئی، قدرتی حسن اور پہاڑوں سے ان کی محبت کے حوالے سے یاد کی جارہی ہے۔ ان کے قریبی حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ صارفین نے مرحومہ کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے ان کے لیے مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعائیں بھی کی ہیں۔
اسماء مشتاق کی اسپانٹک مہم ان کی زندگی کے ان لمحات میں شامل تھی جن میں انہوں نے اپنے شوق اور جذبے کو عملی شکل دی۔ اسپانٹک، جسے مقامی طور پر ایک دشوار گزار بلند چوٹی کے طور پر جانا جاتا ہے، کو سر کرنا کوہ پیماؤں کے لیے ایک اہم کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ اسماء نے چوٹی تک پہنچ کر یہ کامیابی حاصل کی، تاہم واپسی کے دوران پیش آنے والے حادثے نے اس مہم کو ایک افسوسناک انجام دے دیا۔
بلند پہاڑی علاقوں میں کم آکسیجن، شدید سردی، موسم کی اچانک تبدیلی اور جسم پر اضافی دباؤ کوہ پیماؤں کے لیے بڑے چیلنجز بن سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے بلند مقامات پر مہم کے دوران جسمانی حالت کی مسلسل نگرانی اور ہنگامی طبی سہولیات کی دستیابی انتہائی اہم ہوتی ہے۔
اسماء مشتاق کے انتقال پر سوشل میڈیا صارفین نے ان کی مہم جوئی کے جذبے کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی پہاڑوں، ساحلوں اور قدرتی مناظر سے محبت کو یاد کیا۔ متعدد صارفین نے ان کی تصاویر اور یادیں شیئر کرتے ہوئے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔
پاکستانی کوہ پیمائی کی دنیا میں اسماء مشتاق کا نام ان کی اسپانٹک مہم اور قدرت سے محبت کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔ ان کی چوٹی سر کرنے کی کامیابی ان کے شوق، حوصلے اور عزم کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ واپسی کے دوران پیش آنے والا المناک واقعہ ان کے اہل خانہ، دوستوں اور مہم جوئی کے حلقوں کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔
اسماء مشتاق کے انتقال پر ان کے اہل خانہ اور دوستوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے دعائیں کی جارہی ہیں۔
READ MORE FAQS
- اسماء مشتاق کون تھیں؟
اسماء مشتاق پاکستانی نوجوان کوہ پیما تھیں جنہیں پہاڑوں، مہم جوئی اور قدرتی مناظر سے گہری دلچسپی تھی۔
- اسماء مشتاق نے کون سی چوٹی سر کی؟
رپورٹس کے مطابق اسماء مشتاق نے قراقرم میں واقع اسپانٹک چوٹی کامیابی سے سر کی۔
- اسپانٹک چوٹی کتنی بلند ہے؟
اسپانٹک چوٹی کی بلندی تقریباً 7,027 میٹر ہے۔
- اسماء مشتاق کا انتقال کیسے ہوا؟
دستیاب اطلاعات کے مطابق چوٹی سے واپسی کے دوران انہیں مبینہ طور پر ہائی آلٹی ٹیوڈ سکنس کا سامنا ہوا اور وہ جانبر نہ ہوسکیں۔








