قومی اسمبلی میں حکومت کو بڑا دھچکا، پیپلز پارٹی کی عدم شرکت سے اجلاس کورم پورا نہ ہونے پر ملتوی،
اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اس وقت مشکل صورتحال سے دوچار ہوگئی جب پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان نے اجلاس میں شرکت نہ کی اور ایوان مطلوبہ کورم پورا نہ ہونے کے باعث کارروائی آگے نہ بڑھا سکا۔
336 ارکان پر مشتمل قومی اسمبلی میں اجلاس چلانے کے لیے کم از کم 84 ارکان کی موجودگی ضروری تھی، تاہم پیپلز پارٹی کی عدم شرکت کے باعث حکومت مطلوبہ تعداد پوری کرنے میں ناکام رہی۔
اجلاس کے آغاز پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے سوالات کا آغاز کیا تو پاکستان تحریک انصاف کے رکن اقبال آفریدی نے کورم کی نشاندہی کردی۔ اسپیکر نے ارکان کی گنتی کا حکم دیتے ہوئے اجلاس کچھ دیر کے لیے معطل کردیا۔

تقریباً 35 منٹ بعد ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ کی زیر صدارت کارروائی دوبارہ شروع ہوئی، تاہم ایوان میں مطلوبہ تعداد پوری نہ ہوسکی، جس کے بعد اجلاس کو منگل تک ملتوی کردیا گیا۔
’پیپلز پارٹی کے بغیر کورم نہیں‘
پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے اجلاس ملتوی ہونے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی عدم موجودگی میں کورم پورا نہیں ہوسکا۔
شرمیلا فاروقی نے بعد ازاں بتایا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور بدانتظامی سے متعلق پارٹی کے تحفظات دور ہونے تک پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں حکومت کے ساتھ کورم اور قانون سازی کے معاملے پر تعاون نہیں کرے گی۔
ان کے مطابق اجلاس کے آغاز میں موجود پیپلز پارٹی کے ارکان نے بھی ایوان میں مسلم لیگ ن کے صرف تقریباً 20 سے 25 ارکان کو دیکھنے کے بعد ایوان سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔
آزاد کشمیر انتخابات پر اختلافات
حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان حالیہ دنوں میں آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے انتخابی عمل سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اگرچہ پیپلز پارٹی نے گزشتہ ہفتے حکومت کے ساتھ مل کر دو سکیورٹی سے متعلق بلوں کی منظوری میں تعاون کیا تھا، تاہم بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی موجودگی میں پارلیمانی قانون سازی کے طریقہ کار پر بھی اعتراضات اٹھائے تھے۔

اختلافات کے بعد بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پیپلز پارٹی کے وفد نے اپوزیشن رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں اور پارلیمنٹ اور اس کی قائمہ کمیٹیوں میں قانون سازی کے حوالے سے تعاون طلب کیا۔
قومی اسمبلی میں حنا جاوید کے قتل کا معاملہ بھی زیر بحث
اجلاس کے آغاز میں اسپیکر ایاز صادق نے راولپنڈی میں حنا جاوید کے قتل پر تشویش کا اظہار کیا اور معاملہ متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔
اسپیکر نے بتایا کہ حنا جاوید دسمبر 2019 سے رواں سال جون تک نیشنل اسمبلی میں نیشنل آئی ٹی بورڈ کی جانب سے بطور اٹیچمنٹ خدمات انجام دیتی رہی تھیں، جس کے بعد وہ اپنے اصل محکمے میں واپس چلی گئی تھیں۔
ایاز صادق نے کہا کہ اگرچہ ایسے معاملات عمومی طور پر صوبائی دائرہ اختیار میں آتے ہیں، تاہم قومی اسمبلی سے وابستہ رہنے کے باعث یہ واقعہ خصوصی تشویش کا باعث ہے۔
وفاقی وزیر قانون و انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ وزارت راولپنڈی پولیس سے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے مسلسل رابطے میں ہے۔ ان کے مطابق دو مشتبہ افراد کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر بھیجا گیا ہے اور امید ہے کہ ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
The Session of the National Assembly begins with Honourable Deputy Speaker Syed Ghulam Mustafa Shah in Chair@syed_gmshah
To watch the session live click on the link below;https://t.co/YhGUmZ20EZ#NASession pic.twitter.com/PZDWqOYQuZ
— National Assembly 🇵🇰 (@NAofPakistan) August 25, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: قومی اسمبلی کا اجلاس کیوں ملتوی ہوا؟
جواب: پیپلز پارٹی کے ارکان کی عدم شرکت کے باعث ایوان میں مطلوبہ کورم پورا نہیں ہوسکا، جس پر اجلاس ملتوی کردیا گیا۔
سوال 2: قومی اسمبلی میں کورم کے لیے کتنے ارکان درکار ہوتے ہیں؟
جواب: 336 رکنی قومی اسمبلی میں اجلاس کی کارروائی کے لیے کم از کم 84 ارکان کی موجودگی ضروری ہے۔
سوال 3: پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں حکومت کا ساتھ کیوں چھوڑا؟
جواب: پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور بدانتظامی سے متعلق اپنے تحفظات کے باعث حکومت کے ساتھ کورم اور قانون سازی میں تعاون نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سوال 4: قومی اسمبلی کے اجلاس کی نشاندہی کس نے کی؟
جواب: پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے اجلاس کے دوران کورم کی نشاندہی کی تھی۔
سوال 5: حنا جاوید قتل کیس کا معاملہ کہاں پہنچا؟
جواب: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق دو مشتبہ افراد تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر ہیں جبکہ پولیس تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔






