گل پلازہ کے واقعے میں 72 افراد جاں بحق ہوئے، تو کیا وزیراعلیٰ سندھ اور میئر کراچی نے استعفیٰ دیا؟ : مصطفیٰ کمال

وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا استعفے سے متعلق بیان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

گل پلازہ کے واقعے میں 72 افراد جاں بحق ہوئے، تو کیا وزیراعلیٰ سندھ اور میئر کراچی نے استعفیٰ دیا؟ : وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے واضح جواب دینے سے گریز کیا

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اپنے استعفے سے متعلق سوال کا واضح جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کی معلومات جس ذریعے سے ملی ہیں، وہیں سے اس بارے میں پوچھا جائے۔

جیو نیوز کے پروگرام "کیپٹل ٹاک” میں گفتگو کرتے ہوئے میزبان حامد میر نے مصطفیٰ کمال سے سوال کیا کہ کیا انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا استعفیٰ بھجوایا تھا، جسے وزیراعظم نے قبول نہیں کیا؟

اس سوال پر وفاقی وزیر صحت نے براہِ راست ہاں یا ناں میں جواب دینے کے بجائے کہا، "جب آپ کو معلوم ہے تو مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں؟”

حامد میر نے دوبارہ سوال کیا کہ کیا اس بارے میں وزیراعظم سے پوچھنا چاہیے؟ جس پر مصطفیٰ کمال نے جواب دیا، "جہاں سے آپ کو معلوم ہوا ہے وہیں سے پوچھ لیں۔”

پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے بعد وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے استعفے کا مطالبہ
پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد تحقیقات جاری ہیں۔

پیپلز پارٹی پر تنقید

مصطفیٰ کمال نے گفتگو کے دوران پیپلز پارٹی کے سیاسی مؤقف اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا پورا ایجنڈا ہے اور اسے انتظامی یونٹس کی بات بہت زور سے لگی ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ اگر وہ وزارت سے مستعفی ہو کر کراچی چلے گئے تو پیپلز پارٹی کے لیے مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اگر دو روز کراچی جاتے ہیں تو پیپلز پارٹی کی مبینہ ناقص حکمرانی پر بات ہوتی ہے، تاہم اگر وہ سات روز کراچی میں بیٹھیں تو شاید پیپلز پارٹی کے رہنما خود انہیں واپس بھیجنے کی بات شروع کردیں۔

گل پلازہ واقعے کا حوالہ

مصطفیٰ کمال نے کراچی میں گل پلازہ کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ وہاں 72 افراد جاں بحق ہوئے، تو کیا وزیراعلیٰ سندھ اور میئر کراچی نے استعفیٰ دیا؟

انہوں نے کہا کہ استعفے کے معاملے پر وہ تمام حقائق سامنے نہیں لا سکتے کہ وزارت سے متعلق انہوں نے کیا کیا اور کیا نہیں کیا۔

پمز آتشزدگی پر مصطفیٰ کمال کا مؤقف

وفاقی وزیر صحت نے پمز ہسپتال کے چلڈرنز وارڈ میں آتشزدگی کے واقعے پر بھی گفتگو کی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور اس کے علاوہ کوئی دوسری کمیٹی موجود نہیں۔

پمز ہسپتال میں آتشزدگی
پمز ہسپتال اسلام آباد میں آتشزدگی کے بعد ہسپتال کے باہر غمزدہ والدین

مصطفیٰ کمال کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کے ٹرمز آف ریفرنس (TORs) واضح ہیں اور کمیٹی مقررہ وقت میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی سفارشات پر من و عن عمل کیا جائے گا۔

انہوں نے پمز میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے وقت چھٹی کے باوجود ہسپتال میں عملہ ڈیوٹی پر موجود تھا۔

وفاقی وزیر صحت کے مطابق نرسری میں آگ لگنے کے بعد بجلی بھی چلی گئی تھی، جبکہ متعلقہ حکام متاثرہ بچوں کے والدین اور لواحقین سے رابطے میں ہیں۔

تحقیقاتی کمیٹی کی کارروائی

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ پمز واقعے کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں 8 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

کمیٹی میں متعلقہ انتظامی، پولیس، ایمرجنسی، سی ڈی اے، آئیسکو اور پمز کے نمائندے شامل ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی کو آگ لگنے کی وجوہات، ہسپتال کے حفاظتی انتظامات، ریسکیو رسپانس ٹائم اور فائر فائٹنگ آپریشن کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حقائق سامنے آنے کے بعد ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ مصطفیٰ کمال کے استعفے سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے براہِ راست تصدیق یا تردید نہیں کی، اس لیے ان کے استعفے کی حتمی حیثیت کے بارے میں مزید سرکاری وضاحت کا انتظار ہے۔

READ MORE FAQS”

کیا مصطفیٰ کمال نے استعفیٰ دے دیا ہے؟
مصطفیٰ کمال نے اپنے استعفے سے متعلق سوال کا واضح جواب نہیں دیا اور معاملے پر براہِ راست تصدیق یا تردید سے گریز کیا۔

مصطفیٰ کمال سے استعفے کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے؟
پمز کے چلڈرنز وارڈ میں آتشزدگی کے المناک واقعے کے بعد بعض سیاسی رہنماؤں نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے پیپلز پارٹی کے بارے میں کیا کہا؟
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو انتظامی یونٹس کی بات بہت زور سے لگی ہے اور اسے سیاسی ایجنڈے کا حصہ قرار دیا۔

پمز واقعے کی تحقیقات کون کر رہا ہے؟
حکومت نے واقعے کی وجوہات، حفاظتی انتظامات اور ریسکیو آپریشن کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:10 AM
طلوع آفتاب05:38 AM
ظہر12:09 PM
عصر03:48 PM
مغرب06:41 PM
عشاء08:09 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6