پمز سانحہ: وزیراعظم کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ، افسران و عملے کی غفلت ثابت

پمز سانحہ، وزیراعظم تحقیقاتی کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پمز سانحہ، وزیراعظم کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ میں افسران و عملے کی غفلت سامنے آگئی

پمز سانحہ سے متعلق وزیراعظم کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے ابتدائی رپورٹ تیار کرلی ہے، جس میں ہسپتال کے افسران اور عملے کی غفلت سے متعلق اہم نکات سامنے آئے ہیں۔

تحقیقاتی کمیٹی نے واقعے کی وجوہات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ہسپتال کے افسران اور ملازمین کے بیانات قلمبند کیے۔ کمیٹی نے آگ لگنے کی اطلاع ملنے سے لے کر فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کے موقع پر پہنچنے تک کی ٹائم لائن بھی چیک کی۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق ریسکیو ٹیم کو آگ بجھانے اور متاثرہ مقام تک پہنچنے کے دوران متعدد رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بعض مقامات پر تالے لگے ہوئے تھے جبکہ متعلقہ ٹیکنیکل سٹاف بھی موجود نہیں تھا۔

تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق آگ بجھانے کے لیے مناسب آلات کی عدم موجودگی بھی ایک اہم مسئلہ سامنے آئی۔ ریسکیو ٹیم کو متاثرہ مقام تک رسائی حاصل کرنے کے لیے دیواریں توڑ کر اندر داخل ہونا پڑا۔

رپورٹ میں ہسپتال کے عملے کی ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کمیٹی کے مطابق ہسپتال کا عملہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے حوالے سے مطلوبہ تربیت سے محروم تھا۔

وزیراعظم کی جانب سے قائم تحقیقاتی کمیٹی کو ابتدائی طور پر 48 گھنٹے میں پیش رفت رپورٹ دینے کی ہدایت کی گئی تھی، جبکہ کمیٹی پانچ روز میں تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔

تحقیقات کے دوران کمیٹی نے 30 سے زائد ملازمین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے۔ بیان دینے والوں میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ڈاکٹرز اور نرسز شامل تھے۔ چلڈرن وارڈ میں تعینات 18 سے زائد سکیورٹی گارڈز کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے۔

کمیٹی نے واقعے کے وقت ڈیوٹی پر موجود عملے کا بائیومیٹرک ریکارڈ بھی چیک کیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ حادثے کے وقت کون کون سے ملازمین اپنی ڈیوٹی پر موجود تھے۔

آگ بجھانے کے لیے موقع پر پہنچنے والے فائر بریگیڈ کے اہلکاروں سے بھی معلومات حاصل کی گئیں۔ ڈائریکٹر جنرل ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ڈائریکٹر فائر بریگیڈ نے بھی کمیٹی کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔

تحقیقاتی ٹیم نے ریسکیو ٹیموں کی آمد اور کارروائی کی ٹائم لائن کا بھی جائزہ لیا تاکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں پیش آنے والی تاخیر یا انتظامی رکاوٹوں کا تعین کیا جاسکے۔

دوسری جانب کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے پمز میں فائر سیفٹی انتظامات بہتر بنانے کے لیے دوبارہ خط لکھ دیا ہے۔ پمز سانحے کی مکمل تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔

وزیراعظم کی تحقیقاتی کمیٹی کے علاوہ پمز ہسپتال کی انتظامیہ نے بھی اپنی الگ انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

گزشتہ روز تحقیقاتی کمیٹی نے ہسپتال کی نرسری کا سی سی ٹی وی ریکارڈ بھی قبضے میں لیا تھا۔ اس کے علاوہ پمز کے عملے کے بیانات قلمبند کیے گئے اور فائر بریگیڈ و ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔

پمز سانحے کا معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت میں بھی زیر بحث آیا۔ کمیٹی میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور عملے کو معطل کرنے جبکہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

ڈاکٹر مہیش کمار نے ہسپتال کا دورہ کرتے ہوئے تحقیقات میں سامنے آنے والے متضاد بیانات پر سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے آگ لگنے کی وجہ ایئرکنڈیشنر بتائی گئی، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ اے سی چل ہی نہیں رہا تھا۔

انہوں نے اس معاملے پر مزید تحقیقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر عملے کے بیانات میں یکسانیت پائی جاتی ہے، جس کی وضاحت ضروری ہے۔

وزیراعظم کی تحقیقاتی کمیٹی کی تفصیلی رپورٹ سامنے آنے کے بعد پمز سانحے میں انتظامی غفلت، فائر سیفٹی انتظامات اور ہنگامی ردعمل سے متعلق مزید حقائق واضح ہونے کی توقع ہے۔

READ MORE FAQS

سوال: پمز سانحہ کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کیا سامنے آیا؟
جواب: ابتدائی رپورٹ میں ہسپتال کے افسران اور عملے کی غفلت، فائر سیفٹی کی خامیوں اور ریسکیو ٹیم کو پیش آنے والی رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

سوال: ریسکیو ٹیم کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب: رپورٹ کے مطابق بعض مقامات پر تالے لگے ہوئے تھے، ٹیکنیکل سٹاف موجود نہیں تھا اور آگ بجھانے کے مناسب آلات بھی دستیاب نہیں تھے۔ ریسکیو ٹیم کو دیواریں توڑ کر اندر داخل ہونا پڑا۔

سوال: کیا پمز کا عملہ ہنگامی صورتحال کے لیے تربیت یافتہ تھا؟
جواب: تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ہسپتال کا عملہ ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے حوالے سے مطلوبہ تربیت نہیں رکھتا تھا۔

سوال: کمیٹی نے کتنے ملازمین کے بیانات ریکارڈ کیے؟
جواب: کمیٹی نے 30 سے زائد ملازمین کے بیانات قلمبند کیے، جن میں افسران، ڈاکٹرز، نرسز اور سکیورٹی گارڈز شامل تھے۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:11 AM
طلوع آفتاب05:39 AM
ظہر12:09 PM
عصر03:47 PM
مغرب06:40 PM
عشاء08:07 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6