پمز سانحے کے بعد اسلام آباد کے فائر اینڈ ریسکیو نظام میں بڑی پیش رفت، چین کا 21 جدید گاڑیوں کا تحفہ،
اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے اندوہناک واقعے کے بعد وفاقی دارالحکومت کے فائر اینڈ ریسکیو نظام کو جدید بنانے کی جانب اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، چین نے اسلام آباد کے لیے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیاں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد فائر بریگیڈ کے زیرِ استعمال متعدد گاڑیاں تقریباً 20 سال پرانی ہیں اور آخری بڑی خریداری 2006 میں کی گئی تھی۔ اب چین کی جانب سے فراہم کی جانے والی جدید گاڑیوں اور آلات سے شہر کی فائر فائٹنگ اور ریسکیو صلاحیت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
چین سے ملنے والی امداد کی مالیت 3 ارب روپے کے قریب

ذرائع کا کہنا ہے کہ چین سے اسلام آباد کو فراہم کی جانے والی فائر گاڑیوں اور متعلقہ آلات کی مجموعی مالیت 72.31 ملین چینی یوآن ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 3 ارب روپے بنتی ہے۔
اس امداد کے تحت اسلام آباد کو بلند عمارات میں ریسکیو آپریشن کے لیے جدید اسنارکل فائر ٹینڈر بھی فراہم کیا جائے گا۔
88 میٹر بلندی تک ریسکیو آپریشن ممکن ہوگا
ذرائع کے مطابق نئی فائر اینڈ ریسکیو گاڑی تقریباً 88 میٹر بلندی تک ریسکیو آپریشن کرنے کی صلاحیت رکھے گی۔
موجودہ فائر ٹینڈرز کی رسائی تقریباً 68 میٹر تک ہے، جبکہ نئی گاڑیوں سے یہ صلاحیت 88 میٹر تک بڑھ جائے گی۔ یوں بلند و بالا عمارتوں میں آگ لگنے یا ہنگامی صورتحال کے دوران ریسکیو آپریشن کی استعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
ذرائع کے مطابق نئی فائر گاڑیاں ستمبر میں پاکستان پہنچنے کی توقع ہے۔
2006 کے بعد فائر بریگیڈ کی بڑی اپ گریڈیشن
ذرائع نے بتایا کہ کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) فائر ڈپارٹمنٹ میں آخری بڑی خریداری 2006 میں کی گئی تھی، جس کے بعد تقریباً دو دہائیوں کے دوران فائر ریسکیو بیڑے کو بڑے پیمانے پر جدید بنانے کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی۔
چین کی جانب سے جدید گاڑیوں کی فراہمی سے اسلام آباد کے پرانے فائر اینڈ ریسکیو نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔

پمز سانحے کے بعد فائر سیفٹی پر توجہ بڑھ گئی
واضح رہے کہ اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس المناک واقعے کے بعد اسپتالوں سمیت شہر بھر میں فائر سیفٹی اور ریسکیو انتظامات پر سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے۔
ذرائع کے مطابق پمز سانحے کے بعد جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کی ضرورت اور اہمیت مزید نمایاں ہوئی ہے، خصوصاً بلند عمارات میں بروقت امدادی کارروائی کے لیے زیادہ بلندی تک پہنچنے والی گاڑیوں کی کمی ایک اہم مسئلہ رہی ہے۔
پاک چین تعاون کے تحت جدید فائر ریسکیو نظام
ذرائع کے مطابق 2024 کے پاک چین مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت اسلام آباد کو جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیاں فراہم کی جا رہی ہیں۔
چینی امداد کے ذریعے وفاقی دارالحکومت کے فائر اینڈ ریسکیو نظام کو جدید بنانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ نئی گاڑیوں سے نہ صرف بلند عمارات میں آگ بجھانے کی صلاحیت بہتر ہوگی بلکہ ہنگامی حالات میں شہریوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے اور ریسکیو آپریشنز کو زیادہ مؤثر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
READ MORE FAQS”
سوال: چین اسلام آباد کو کتنی فائر ریسکیو گاڑیاں دے گا؟
جواب: چین اسلام آباد کے لیے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیاں فراہم کرے گا۔
سوال: نئی فائر گاڑیاں کتنی بلندی تک ریسکیو کرسکیں گی؟
جواب: نئی گاڑیاں تقریباً 88 میٹر بلندی تک ریسکیو آپریشن کرسکیں گی۔
سوال: موجودہ فائر ٹینڈرز کی رسائی کتنی ہے؟
جواب: اسلام آباد کے موجودہ فائر ٹینڈرز تقریباً 68 میٹر تک رسائی رکھتے ہیں۔
سوال: چین کی جانب سے فراہم کیے جانے والے آلات کی مالیت کتنی ہے؟
جواب: ذرائع کے مطابق فائر گاڑیوں اور آلات کی مالیت 72.31 ملین چینی یوآن، یعنی تقریباً 3 ارب پاکستانی روپے ہے۔






