نیپال میں نئے سیلاب کا خطرہ، بند ٹوٹنے کی وارننگ جاری

نیپال میں نئے سیلاب کا خطرہ اور سیلابی وارننگ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

نیپال میں نئے سیلاب کا خطرہ، چین نے بھی وارننگ جاری کردی

نیپال میں نئے سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے اور حکام نے ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر متاثرہ علاقوں میں الرٹ جاری کردیا ہے۔ یہ وارننگ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب نیپال 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب کے اثرات سے ابھی مکمل طور پر باہر نہیں نکلا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیپال اور چین کی سرحد کے قریب تبت کی جانب لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں بننے والی ایک بڑی جھیل میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ جھیل میں موجود پانی کی بڑی مقدار کے باعث اس کے اوور فلو ہونے اور قریبی دریاؤں میں دوبارہ شدید سیلاب آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق جھیل میں 2.5 ملین مکعب میٹر سے زیادہ پانی جمع ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اگر پانی کی سطح مزید بلند ہوتی ہے اور جھیل اوور فلو ہوجاتی ہے تو اس کے نتیجے میں دریاؤں میں پانی کا بہاؤ اچانک بڑھ سکتا ہے۔

تازہ صورتحال کے بعد نیپال میں متعلقہ اداروں نے دریاؤں کے اطراف رہنے والے افراد کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ دریائے بھوٹے کوشی کے ساتھ ساتھ تریشولی اور نارایانی دریاؤں کے علاقوں میں بھی ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

تبت کی جانب ڈیم یا پانی کے بند کو نقصان پہنچنے اور پانی کے بہاؤ میں اضافے کی اطلاعات نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ حکام کی جانب سے ممکنہ خطرے کے پیش نظر متاثرہ علاقوں میں موجود شہریوں اور امدادی کارکنوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

راسوا اور نوواکوت سمیت دیگر حساس علاقوں میں بھی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ امدادی ٹیموں کو ممکنہ ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے اور دریاؤں کے پانی کی سطح پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

نیپال میں نئے سیلاب کا خطرہ امدادی سرگرمیوں کے لیے بھی بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ 26 اگست کے سیلاب کے بعد سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن پہلے ہی جاری ہیں، جبکہ نئے سیلاب کے خدشے کے باعث امدادی کارکنوں کی نقل و حرکت اور متاثرہ علاقوں تک رسائی مزید مشکل ہوسکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق 26 اگست کے تباہ کن سیلاب میں نیپال میں کم از کم 470 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 1,400 سے زائد افراد لاپتا ہیں۔ بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے باعث مختلف علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

تازہ سیلابی وارننگ نے ان کارروائیوں میں مصروف اداروں اور مقامی آبادی کے لیے مزید خطرات پیدا کردیئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دریاؤں کے قریب رہنے والے افراد ممکنہ طور پر خطرناک صورتحال سے بچنے کے لیے سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔

چین کی جانب سے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ چینی حکام نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں جھیل میں مزید پانی جمع ہونے کی صورت میں اس کے پھٹنے یا اوور فلو ہونے کا خطرہ برقرار رہے گا۔

ماہرین کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں بننے والی قدرتی جھیلوں میں پانی کی سطح تیزی سے بڑھنے کی صورت میں اچانک سیلاب کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ ایسے حالات میں دریاؤں کے زیریں علاقوں میں رہنے والی آبادی کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کرنا انتہائی اہم ہوتا ہے۔

نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں موجودہ صورتحال کے باعث متعلقہ ادارے پانی کے بہاؤ، جھیل کی سطح اور دریاؤں کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں موسمی حالات اور پانی کی سطح اس خطرے کی شدت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

READ MORE FAQS

سوال: نیپال میں نئے سیلاب کا خطرہ کیوں پیدا ہوا؟
جواب: تبت کی جانب لینڈ سلائیڈنگ سے بننے والی ایک بڑی جھیل میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے، جس کے اوور فلو ہونے سے دریاؤں میں شدید سیلاب کا خدشہ ہے۔

سوال: جھیل میں کتنا پانی جمع ہونے کی اطلاعات ہیں؟
جواب: رپورٹس کے مطابق جھیل میں 2.5 ملین مکعب میٹر سے زیادہ پانی موجود ہے۔

سوال: کن دریاؤں کے علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا؟
جواب: دریائے بھوٹے کوشی، تریشولی اور نارایانی کے علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

سوال: نیپال میں حالیہ سیلاب سے کتنا جانی نقصان ہوا؟
جواب: فراہم کردہ معلومات کے مطابق 26 اگست کے سیلاب میں کم از کم 470 افراد ہلاک اور تقریباً 1,400 سے زائد افراد لاپتا ہیں۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:12 AM
طلوع آفتاب05:39 AM
ظہر12:09 PM
عصر03:47 PM
مغرب06:38 PM
عشاء08:05 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6