چین میں دو اعلیٰ فوجی افسران عہدوں سے برطرف

چین کے فوجی افسران ژانگ یوشیا اور لیو ژینلی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

چین میں کرپشن الزامات پر دو اعلیٰ فوجی افسران عہدوں سے برطرف

چین فوجی افسران کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دو انتہائی اعلیٰ عہدیداروں ژانگ یوشیا اور لیو ژینلی کو سینٹرل ملٹری کمیشن میں ان کے عہدوں سے برطرف کردیا گیا ہے۔

چینی سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق دونوں فوجی افسران کو عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔

ژانگ یوشیا چین کے سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین تھے اور انہیں چینی فوج میں صدر شی جن پنگ کے بعد انتہائی بااثر شخصیات میں شمار کیا جاتا تھا۔ وہ چین کے پولٹ بیورو کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔

دوسری جانب لیو ژینلی سینٹرل ملٹری کمیشن کے جوائنٹ اسٹاف ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کے طور پر ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ یہ شعبہ فوجی منصوبہ بندی اور آپریشنل امور میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

دونوں افسران کے خلاف رواں سال جنوری میں تحقیقات کا اعلان کیا گیا تھا۔ چینی وزارت دفاع نے اس وقت ان پر ’’نظم و ضبط اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں‘‘ کے شبہے کا ذکر کیا تھا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق چین میں ’’نظم و ضبط اور قانون کی سنگین خلاف ورزی‘‘ کی اصطلاح بعض اوقات بدعنوانی سے متعلق تحقیقات کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

اب چینی پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد دونوں عہدیداروں کو ان کے اہم فوجی عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شنہوا کی رپورٹ کے مطابق ژانگ یوشیا کو سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین کے منصب سے فارغ کیا گیا۔

اسی فیصلے کے تحت لیو ژینلی کو بھی سینٹرل ملٹری کمیشن کے جوائنٹ اسٹاف ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

یہ پیش رفت چین کے صدر شی جن پنگ کی جانب سے فوج اور ریاستی اداروں میں بدعنوانی کے خلاف جاری وسیع مہم کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران چینی فوج میں متعدد اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف تحقیقات اور کارروائیاں کی جاچکی ہیں۔

تاہم ژانگ یوشیا کی برطرفی کو خاص طور پر اہم قرار دیا جارہا ہے کیونکہ وہ چینی قیادت کے انتہائی سینئر فوجی عہدیداروں میں شامل تھے۔ ان کی طویل عرصے تک چینی فوج کے اعلیٰ ترین فیصلہ سازی کے نظام میں موجودگی انہیں ایک نمایاں شخصیت بناتی تھی۔

چینی فوج میں سینٹرل ملٹری کمیشن کو بنیادی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہی ادارہ پیپلز لبریشن آرمی کے اعلیٰ سطحی فوجی معاملات کی نگرانی کرتا ہے۔ اس لیے کمیشن کے دو اہم عہدیداروں کی برطرفی کو چین کی فوجی قیادت کے لیے بڑی پیش رفت سمجھا جارہا ہے۔

ژانگ یوشیا اور لیو ژینلی کے خلاف کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چین کی قیادت فوجی نظم و ضبط، احتساب اور ادارہ جاتی نگرانی کو مضبوط بنانے پر زور دے رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے لیے ژانگ یوشیا کی برطرفی اس لیے بھی قابل توجہ ہے کہ وہ صدر شی جن پنگ کے دور میں فوج کے اہم ترین عہدیداروں میں شامل رہے ہیں۔ ان کی برطرفی سے چینی فوج کی اعلیٰ قیادت میں ممکنہ تبدیلیوں کے حوالے سے بھی توجہ بڑھ گئی ہے۔

فی الحال دونوں افسران کے خلاف تحقیقات کی مکمل تفصیلات اور ان پر عائد مخصوص الزامات کی تمام معلومات عوامی سطح پر سامنے نہیں آئی ہیں۔ چینی حکام کی جانب سے جاری کردہ معلومات میں بنیادی طور پر سنگین نظم و ضبط اور قانون کی خلاف ورزیوں سے متعلق تحقیقات کا ذکر کیا گیا ہے۔

حالیہ فیصلہ چین میں فوجی قیادت، احتساب اور انسداد بدعنوانی کی پالیسی کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں دونوں عہدیداروں کے خلاف تحقیقات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کی صورت میں معاملے کی نوعیت مزید واضح ہوسکتی ہے۔

READ MORE FAQS

سوال: چین نے کن دو اعلیٰ فوجی افسران کو عہدوں سے ہٹایا؟
جواب: ژانگ یوشیا اور لیو ژینلی کو سینٹرل ملٹری کمیشن میں ان کے اہم عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔

سوال: ژانگ یوشیا کون تھے؟
جواب: ژانگ یوشیا سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین اور چینی پولٹ بیورو کے رکن رہ چکے ہیں۔

سوال: لیو ژینلی کا عہدہ کیا تھا؟
جواب: لیو ژینلی سینٹرل ملٹری کمیشن کے جوائنٹ اسٹاف ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ تھے۔

سوال: دونوں افسران کے خلاف تحقیقات کب شروع ہوئیں؟
جواب: چینی حکام نے دونوں افسران کے خلاف تحقیقات کا اعلان رواں سال جنوری میں کیا تھا۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:11 AM
طلوع آفتاب05:39 AM
ظہر12:09 PM
عصر03:47 PM
مغرب06:40 PM
عشاء08:07 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6