سی ڈی اے کی فائر سیفٹی ڈرل کے دوران پانی قومی اسمبلی کے ڈی جی میڈیا آفس میں داخل
قومی اسمبلی فائر سیفٹی ڈرل کے دوران پیش آنے والے ایک غیر معمولی واقعے میں آگ بجھانے کے لیے استعمال ہونے والا پانی ڈی جی میڈیا ظفر سلطان کے دفتر میں داخل ہوگیا، جس کے باعث دفتر کے مختلف حصے متاثر ہوئے۔
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے عملے کی جانب سے فائر سیفٹی ڈرل کا انعقاد کیا گیا۔ ڈرل کا مقصد عمارت میں ہنگامی صورتحال کے دوران آگ بجھانے کے انتظامات اور متعلقہ عملے کی تیاری کا جائزہ لینا تھا، تاہم اس دوران پانی کے اخراج کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔
فائر سیفٹی ڈرل کے دوران آگ بجھانے کے لیے استعمال ہونے والا پانی چھت پر نصب سیلنگ میں لیکیج کے باعث نیچے موجود ڈی جی میڈیا ظفر سلطان کے دفتر میں پہنچ گیا۔
پانی کی زیادہ مقدار دفتر میں داخل ہونے کے نتیجے میں ڈی جی میڈیا کا دفتر متاثر ہوا جبکہ دفتر کے دیگر حصوں میں بھی پانی پھیل گیا۔
ذرائع کے مطابق پانی صرف دفتر تک محدود نہیں رہا بلکہ ڈی جی میڈیا کے دفتر کے کچن اور واش روم میں بھی پانی بھر گیا، جس سے وہاں موجود جگہ اور سامان متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
چھت کی سیلنگ سے پانی لیک ہوا
فراہم کردہ معلومات کے مطابق پانی چھت پر لگی سیلنگ کی لیکیج کے ذریعے دفتر میں داخل ہوا۔ فائر سیفٹی ڈرل کے دوران پانی کے استعمال کے بعد اس کی مناسب نکاسی نہ ہونے کے باعث صورتحال مزید خراب ہوئی۔
واقعے کے بعد دفتر کے مختلف حصوں سے پانی نکالنے کی ضرورت پیش آئی۔ فائر سیفٹی ڈرل کا مقصد عمارت میں آگ لگنے کی صورت میں ہنگامی ردعمل کو جانچنا تھا، تاہم پانی کی نکاسی کا مناسب انتظام نہ ہونے کے باعث ایک الگ مسئلہ پیدا ہوگیا۔
ڈرل جمعہ کو کی گئی تھی
سی ڈی اے کی جانب سے قومی اسمبلی میں فائر سیفٹی ڈرل جمعہ کو کی گئی تھی۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ڈرل مکمل ہونے کے بعد پانی کی مناسب نکاسی نہ کی جاسکی، جس کے باعث پانی چھت کی سیلنگ سے لیک ہوکر ڈی جی میڈیا کے دفتر تک پہنچ گیا۔
واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع فراہم کردہ معلومات میں نہیں دی گئی، تاہم دفتر کے کچن، واش روم اور دیگر حصوں میں پانی جمع ہونے سے معمول کے دفتری امور متاثر ہونے کا امکان پیدا ہوا۔
فائر سیفٹی انتظامات کی اہمیت
قومی اسمبلی جیسی اہم سرکاری عمارت میں فائر سیفٹی ڈرل کا بنیادی مقصد کسی ہنگامی صورتحال میں عملے اور عمارت کے تحفظ کے لیے انتظامات کو جانچنا ہوتا ہے۔ ایسی مشقوں کے دوران آگ بجھانے کے آلات، پانی کی فراہمی، ہنگامی راستوں اور متعلقہ نظام کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
حالیہ واقعے نے فائر سیفٹی نظام کے ساتھ ساتھ پانی کی نکاسی اور عمارت کے انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال کی اہمیت بھی اجاگر کی ہے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق پانی کی نکاسی نہ ہونے کو عملے کی غفلت قرار دیا گیا ہے۔ تاہم واقعے کی مکمل ذمہ داری اور انتظامی وجوہات کا تعین متعلقہ اداروں کی جانب سے جائزے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔
قومی اسمبلی ایک اہم ریاستی ادارے کی عمارت ہے، اس لیے یہاں ہونے والی فائر سیفٹی مشقوں میں نہ صرف آگ سے بچاؤ بلکہ ڈرل کے دوران پیدا ہونے والے ممکنہ ثانوی مسائل سے نمٹنے کے لیے بھی مکمل انتظامات ضروری ہیں۔
READ MORE FAQS
سوال: قومی اسمبلی میں کیا واقعہ پیش آیا؟
قومی اسمبلی میں سی ڈی اے کی فائر سیفٹی ڈرل کے دوران استعمال ہونے والا پانی لیکیج کے باعث ڈی جی میڈیا کے دفتر میں داخل ہوگیا۔
سوال: پانی کہاں سے لیک ہوا؟
فراہم کردہ معلومات کے مطابق چھت پر لگی سیلنگ میں لیکیج کے باعث پانی دفتر تک پہنچا۔
سوال: کون سا دفتر متاثر ہوا؟
ڈی جی میڈیا ظفر سلطان کا دفتر متاثر ہوا، جبکہ دفتر کے کچن اور واش روم میں بھی پانی جمع ہوگیا۔
سوال: قومی اسمبلی میں فائر سیفٹی ڈرل کس ادارے نے کی؟
فائر سیفٹی ڈرل سی ڈی اے کے عملے کی جانب سے کی گئی








