سعودی عرب نے مدینہ میں یورینیم پر مشتمل 110 ملین ٹن خام دھات دریافت کر لی، سعودی وزیر توانائی نے بتایا کہ معدنی ذخائر میں یورینیم کی بھی امید افزا مقدار موجود ہے۔
ریاض: سعودی عرب نے مدینہ ریجن میں تقریباً 110 ملین ٹن معدنی ذخائر دریافت ہونے کا اعلان کیا ہے، جن میں نایاب ارضی عناصر کے ساتھ یورینیم کی امید افزا مقدار بھی شامل ہے۔
سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے یہ انکشاف ویانا میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی جنرل کانفرنس کے دوران کیا۔
سعودی وزیر کے مطابق مدینہ میں جبل سید (Jabal Sayid) منصوبے پر ہونے والی تلاش اور ارضیاتی مطالعات سے تقریباً 110 ملین ٹن معدنی ذخائر کی موجودگی کا تخمینہ سامنے آیا ہے۔
معدنی ذخائر میں نایاب ارضی عناصر بھی شامل

سعودی حکام کے مطابق دریافت ہونے والے ذخائر میں Rare Earth Elements کی خاصی مقدار موجود ہے، بالخصوص بھاری نایاب ارضی عناصر قابلِ ذکر ہیں۔
یہ عناصر جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرانکس، توانائی اور دفاعی صنعت سمیت متعدد شعبوں میں استعمال ہوتے ہیں، جس کے باعث ان کی عالمی سطح پر اسٹریٹجک اہمیت بڑھ گئی ہے۔
سعودی وزیر توانائی نے بتایا کہ معدنی ذخائر میں یورینیم کی بھی امید افزا مقدار موجود ہے۔
تاہم 110 ملین ٹن کا اعداد و شمار مجموعی معدنی ذخیرے یا ore سے متعلق ہے، اسے 110 ملین ٹن خالص یورینیم قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
جبل سید کہاں واقع ہے؟
جبل سید مدینہ ریجن میں واقع ہے اور جدہ سے تقریباً 350 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع بتایا جاتا ہے۔
یہ علاقہ پہلے ہی معدنی وسائل، خصوصاً نایاب ارضی عناصر، کے حوالے سے عالمی توجہ حاصل کرچکا ہے۔
دستیاب تجزیوں کے مطابق جبل سید میں بھاری اور ہلکے نایاب ارضی عناصر کے بڑے ذخائر کے امکانات موجود ہیں، جن میں ڈیسپروسیم، ٹربیئم، نیوڈیمیم اور پراسیوڈیمیم جیسے عناصر شامل ہیں۔
سعودی عرب کا جوہری پروگرام اور معدنیات
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب امریکا کے ساتھ سول نیوکلیئر تعاون کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

22 جولائی 2026 کو امریکا اور سعودی عرب کے درمیان سول نیوکلیئر تعاون سے متعلق معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جسے دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی تعاون کیلئے قانونی بنیاد قرار دیا گیا۔
سعودی عرب پہلے ہی اپنے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے اور جوہری توانائی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکا کے ساتھ اہم معدنی تعاون
سعودی وزیر توانائی کے مطابق امریکا کے ساتھ اہم معدنیات اور سپلائی چینز کے شعبے میں تعاون نے بھی گزشتہ برسوں میں رفتار پکڑی ہے۔
نومبر 2025 میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ امریکا کے دوران اہم معدنیات اور دھاتوں کے شعبے میں تعاون کیلئے اسٹریٹجک فریم ورک پر پیش رفت ہوئی تھی۔
اس تعاون میں سعودی سرکاری کمپنی Ma’aden اور امریکی کمپنی MP Materials کے درمیان شراکت داری بھی شامل ہے۔
امریکی محکمہ دفاع نے سعودی عرب میں ایک نئے نایاب ارضی عناصر کی پروسیسنگ پلانٹ کی مالی معاونت پر بھی اتفاق کیا تھا، جس میں سعودی کمپنی Ma’aden کا اکثریتی حصہ بتایا گیا ہے۔
نایاب ارضی عناصر کی عالمی اہمیت
نایاب ارضی عناصر عالمی معیشت میں تیزی سے اہم ہوتے جارہے ہیں۔
یہ عناصر الیکٹرک گاڑیوں، جدید بیٹریوں، ونڈ ٹربائنز، الیکٹرانک آلات اور بعض دفاعی ٹیکنالوجیز میں استعمال ہوتے ہیں۔

اسی وجہ سے امریکا، چین، سعودی عرب اور دیگر ممالک ان معدنی وسائل کی سپلائی چین کو محفوظ بنانے کیلئے سرمایہ کاری اور نئے معاہدوں پر توجہ دے رہے ہیں۔
سعودی عرب کیلئے بڑی معاشی پیش رفت
سعودی عرب گزشتہ چند برسوں سے تیل پر انحصار کم کرنے کیلئے معدنیات اور کان کنی کے شعبے کو اپنی معیشت کا اہم حصہ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق ملک میں نایاب ارضی عناصر اور دیگر معدنی وسائل کی تلاش کیلئے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔
جبل سید میں 110 ملین ٹن معدنی ذخائر کا نیا تخمینہ سعودی عرب کی اس حکمت عملی کیلئے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
تاہم ان ذخائر کی مکمل اقتصادی قدر، قابلِ استخراج مقدار اور مستقبل میں پیداوار کی سطح کا تعین مزید تفصیلی ارضیاتی اور تکنیکی مطالعات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
واضح رہے کہ 110 ملین ٹن کا اعداد و شمار مجموعی ore کے تخمینے سے متعلق ہے، نہ کہ خالص یورینیم کی مقدار سے۔
🇸🇦 SAUDI ARABIA ANNOUNCES MAJOR RARE EARTH AND URANIUM FIND
Saudi Energy Minister Prince Abdulaziz bin Salman says exploration at Jabal Sayid in the Madinah region has identified roughly 110 million tonnes of ore with high concentrations of rare earth elements—particularly heavy… pic.twitter.com/TMezFsoyNB
— Mossad Commentary (@MOSSADil) September 14, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: سعودی عرب میں کتنے معدنی ذخائر دریافت ہوئے ہیں؟
سعودی وزیر توانائی کے مطابق مدینہ ریجن کے جبل سید منصوبے میں تقریباً 110 ملین ٹن معدنی ذخائر کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
سوال 2: ان معدنی ذخائر میں کیا شامل ہے؟
دریافت میں نایاب ارضی عناصر، خصوصاً بھاری عناصر، کے ساتھ یورینیم کی امید افزا مقدار شامل ہے۔
سوال 3: یہ معدنی ذخائر کہاں دریافت ہوئے؟
یہ ذخائر سعودی عرب کے مدینہ ریجن میں جبل سید (Jabal Sayid) کے علاقے میں تلاش اور ارضیاتی مطالعات کے دوران سامنے آئے۔
سوال 4: سعودی عرب کیلئے اس دریافت کی کیا اہمیت ہے؟
نایاب ارضی عناصر جدید ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں اہمیت رکھتے ہیں، جبکہ یورینیم کی موجودگی سعودی عرب کے مستقبل کے سول نیوکلیئر پروگرام کیلئے بھی اہم ہو سکتی ہے۔






