بولیویا میں ایک صدی بعد بلی کی نئی جنگلی نسل دریافت

بولیویا کے جنگلات میں دریافت ہونے والی بلی کی نئی نسل Leopardus tilcayo
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایک صدی سے زائد عرصے بعد بلی کی نئی جنگلی نسل دریافت

بلی کی نئی نسل کی دریافت نے جنگلی حیات اور جینیاتی تحقیق کے ماہرین کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ بولیویا کے جنگلات میں ایک چھوٹی جنگلی بلی کی شناخت ہوئی ہے جسے سائنسی طور پر Leopardus tilcayo کا نام دیا گیا ہے۔

مقامی طور پر اس بلی کو ’’Tilcayo‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ جسامت کے اعتبار سے بہت چھوٹی جنگلی بلی ہے، جس کی لمبائی تقریباً 46 سینٹی میٹر اور وزن صرف 1.4 کلوگرام بتایا گیا ہے۔

اس نئی شناخت کی ایک نمایاں خصوصیت اس کی کھال کا رنگ اور جسم پر موجود نشانات ہیں۔ بلی کی کھال ہلکی بھوری ہے جبکہ جسم پر بے قاعدہ دھبے اور گول نشان پائے جاتے ہیں، تاہم صرف ظاہری شکل کی بنیاد پر اسے الگ نسل قرار دینا ممکن نہیں تھا۔

ماہرین نے اس بلی کی شناخت کے لیے جینیاتی تحقیق کا سہارا لیا۔ جنوبی امریکا سے حاصل کیے گئے جنگلی بلیوں کے 38 نمونوں کا ڈی این اے تجزیہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ جن بلیوں کو پہلے ایک ہی گروہ کا حصہ سمجھا جاتا تھا، ان میں مختلف جینیاتی اقسام موجود ہیں۔

تحقیق کے مطابق Leopardus tilcayo جینیاتی طور پر دوسری ٹائیگر کیٹس سے مختلف ہے۔ ماہرین کے تجزیے سے یہ بھی سامنے آیا کہ اس بلی کی ارتقائی نسل تقریباً 14 لاکھ سال قبل دوسری متعلقہ اقسام سے الگ ہوئی تھی۔

اس دریافت کی خاص بات یہ ہے کہ بلی کو صرف ظاہری خصوصیات کی بنیاد پر نئی نسل قرار نہیں دیا گیا بلکہ ڈی این اے شواہد نے اس کی الگ جینیاتی شناخت کی تصدیق کی۔ یہی جینیاتی فرق اس بلی کو پہلے سے معلوم قریبی اقسام سے ممتاز کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایک صدی سے زیادہ عرصے کے بعد کسی زندہ بلی کی نئی نسل کو باقاعدہ سائنسی نام دے کر بیان کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کو جنگلی حیات کی تحقیق کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے جنوبی امریکا میں بلیوں کی مختلف اقسام اور ان کے ارتقائی سفر کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

نئی دریافت ہونے والی بلی کا مسکن جنوبی امریکا کے جنگلاتی علاقے ہیں، جہاں جنگلی حیات کو مختلف ماحولیاتی خطرات کا سامنا ہے۔ خصوصاً یونگاس کے جنگلات میں جنگلات کی کٹائی، زراعت، جنگلات میں لگنے والی آگ اور کان کنی جیسی سرگرمیاں قدرتی ماحول کو متاثر کر رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق کسی جانور کی الگ نسل کے طور پر شناخت اس کے تحفظ کے لیے بھی اہم ثابت ہوسکتی ہے۔ نئی جینیاتی شناخت کے بعد Leopardus tilcayo کی آبادی، مسکن اور ماحولیاتی ضروریات کا الگ سے جائزہ لینے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

یہ دریافت اس بات کی بھی مثال ہے کہ جدید جینیاتی تحقیق جنگلی حیات کے بارے میں پہلے سے موجود تصورات کو کس طرح تبدیل کرسکتی ہے۔ بعض جانور ظاہری طور پر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن ڈی این اے کے تفصیلی تجزیے سے ان کے درمیان نمایاں جینیاتی فرق سامنے آسکتا ہے۔

جنوبی امریکا میں جنگلی بلیوں کی مختلف اقسام پہلے ہی موجود ہیں، تاہم نئی شناخت سے اس خطے کی حیاتیاتی تنوع کے بارے میں مزید معلومات سامنے آئی ہیں۔ ماہرین کے لیے یہ تحقیق نہ صرف بلیوں کی ارتقائی تاریخ سمجھنے کا ذریعہ ہے بلکہ جنگلاتی ماحول میں موجود دیگر کم معروف انواع کی شناخت کی اہمیت بھی اجاگر کرتی ہے۔

Leopardus tilcayo کی دریافت کے بعد اب اس کے قدرتی مسکن اور آبادی کے بارے میں مزید تحقیق اہم سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جنگلاتی علاقوں کو انسانی سرگرمیوں سے دباؤ کا سامنا ہے۔

READ MORE FAQS

سوال: بلی کی نئی نسل کہاں دریافت ہوئی ہے؟
جواب: بلی کی نئی جنگلی نسل بولیویا کے جنگلات میں دریافت ہوئی ہے۔

سوال: نئی بلی کی نسل کا سائنسی نام کیا ہے؟
جواب: نئی نسل کا سائنسی نام Leopardus tilcayo رکھا گیا ہے، جبکہ مقامی طور پر اسے ’’Tilcayo‘‘ کہا جاتا ہے۔

سوال: نئی بلی کا وزن کتنا ہے؟
جواب: اس جنگلی بلی کا وزن تقریباً 1.4 کلوگرام بتایا گیا ہے جبکہ اس کی لمبائی تقریباً 46 سینٹی میٹر ہے۔

سوال: نئی نسل کی شناخت کیسے ہوئی؟
جواب: ماہرین نے جنوبی امریکا سے حاصل کیے گئے 38 بلیوں کے نمونوں کا ڈی این اے تجزیہ کیا، جس سے نئی بلی کی الگ جینیاتی شناخت سامنے آئی۔

متعلقہ خبریں

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:29 AM
طلوع آفتاب05:53 AM
ظہر12:02 PM
عصر03:32 PM
مغرب06:11 PM
عشاء07:35 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6