آسٹریلیا نے بھارت کو یورینیم فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا

آسٹریلیا بھارت یورینیم معاہدہ اور جوہری توانائی تعاون
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

آسٹریلیا بھارت یورینیم معاہدہ: برسوں بعد برآمدات کی راہ ہموار

آسٹریلیا بھارت یورینیم معاہدہ عالمی توانائی اور سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ آسٹریلیا نے بھارت کو یورینیم فروخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کئی برسوں سے جاری تعطل کا خاتمہ کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق آسٹریلوی وزیر اعظم Anthony Albanese اور بھارتی وزیر اعظم Narendra Modi نے میلبورن میں ملاقات کے بعد یورینیم برآمدات سے متعلق انتظامی معاہدے کا اعلان کیا۔

دونوں ممالک نے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ بھارت کو کتنی مقدار میں یورینیم فراہم کیا جائے گا یا برآمدات کا باقاعدہ آغاز کب ہوگا، تاہم معاہدے کو دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

آسٹریلیا دنیا کے سب سے بڑے معلوم یورینیم ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اگرچہ آسٹریلیا خود جوہری توانائی استعمال نہیں کرتا اور نہ ہی جوہری ہتھیار رکھتا ہے، لیکن وہ اپنے یورینیم ذخائر مختلف ممالک کو برآمد کرتا ہے۔

2014 میں آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان یورینیم فراہمی کا معاہدہ طے پایا تھا، تاہم مختلف خدشات اور ضابطہ جاتی امور کے باعث اس پر مکمل عملدرآمد نہ ہو سکا۔ بنیادی تشویش یہ تھی کہ یورینیم کو جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بھارت جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا رکن نہیں ہے، جبکہ آسٹریلیا این پی ٹی کا دستخط کنندہ ملک ہونے کے باعث روایتی طور پر ایسے ممالک کو یورینیم فروخت کرنے میں محتاط رویہ اختیار کرتا رہا ہے جو اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔

بھارتی حکومت نے 2047 تک 100 گیگاواٹ جوہری توانائی پیدا کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے بھارت کو طویل مدت تک یورینیم ایندھن کی مستحکم سپلائی درکار ہوگی، اور آسٹریلیا اس ضرورت کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

یہ معاہدہ نہ صرف توانائی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دے گا بلکہ آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور تزویراتی تعلقات کو بھی مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

READ MORE FAQS

سوال: آسٹریلیا نے بھارت کو یورینیم فروخت کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟
جواب: دونوں ممالک نے جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور بھارت کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے۔

سوال: کیا بھارت این پی ٹی کا رکن ہے؟
جواب: نہیں، بھارت جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا دستخط کنندہ ملک نہیں ہے۔

سوال: آسٹریلیا کے پاس یورینیم کے کتنے ذخائر ہیں؟
جواب: آسٹریلیا دنیا کے سب سے بڑے معلوم یورینیم ذخائر رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

سوال: بھارت کا جوہری توانائی کا ہدف کیا ہے؟
جواب: بھارت 2047 تک 100 گیگاواٹ جوہری توانائی پیدا کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔

متعلقہ خبریں